گلگت (کشمیر ڈیجیٹل): صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) نے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے روزگار، تجارت اور رابطے کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمارا اجتماعی فریضہ ہے کہ ان مواقع کو ہر وادی اور ہر گاؤں تک پہنچایا جائے تاکہ خوشحالی سب کے لیے مشترکہ بن سکے۔
صدر آصف علی زرداری ہفتے کے روز گلگت بلتستان کی آزادی کی 78ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ “سی پیک نے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے روزگار، تجارت اور رابطے کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ یہ مواقع ہر گاؤں اور وادی تک پہنچیں اور ہم اجتماعی خوشحالی حاصل کریں۔”
صدر نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی آزادی کے دن کے موقع پر ہمیں یہ عہد دہرانا چاہیے کہ ہم اس خطے کو ترقی، انصاف اور برابری کی مثال بنائیں گے۔ انہوں نے کہا، “آپ کا خطہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ آئیں ہم سب مل کر گلگت بلتستان کو ترقی و انصاف کا ماڈل بنائیں۔”
صدر زرداری نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے پرچم تلے آزادی اور حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہاں مقبوضہ کشمیر کے لوگ اب بھی ظلم و قبضے کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا، “ہم ان کے ساتھ ہیں جب تک وہ بھی آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہو جاتے، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات میں بیان کیا گیا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا، نوٹیفکیشن جاری
صدر زرداری نے مزید کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں میں گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ چل کر ترقی کا سفر طے کیا ہے۔ انہوں نے کہا، “آپ نے ہماری سرحدوں کی حفاظت کی، ترقی میں کردار ادا کیا اور پاکستان کا پرچم دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر لہرایا۔ یہ علاقہ نہ صرف پاکستان کا تاج ہے بلکہ ہمارا شمالی دروازہ اور چین کے ساتھ دیرپا دوستی کی علامت بھی ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی پہلی ’’AI‘‘ ٹی وی پریزنٹر متعارف، میڈیا انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی
صدر نے کہا کہ قراقرم ہائی وے اس دوستی کی ایک زندہ یادگار ہے جو پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک کے ذریعے حاصل ہونے والے ترقیاتی فوائد کو عوامی سطح تک پہنچانے کے لیے تمام ادارے مل کر کام کریں۔




