تہران: ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے مصالحتی کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی ہے۔ اس موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ای سی او وزرائے داخلہ اجلاس میں شرکت کے لیے ایک روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے، جہاں ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے سرحدی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی اعتماد کے فروغ پر زور دیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و ترقی کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ خطے میں دیرپا استحکام لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کا پاکستان اور افغانستان پر مذاکرات کرنے پر زور
وزیر داخلہ محسن نقوی تہران میں ہونے والے ای سی او وزرائے داخلہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں ای سی او تنظیم کے رکن ملکوں کے علاوہ عراق، سلطنت عمان اور دیگر علاقائی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ اجلاس میں علاقائی سکیورٹی، منشیات کی روک تھام، سرحدی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات جیسے اہم امور زیرِ بحث آئیں گے۔
ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے مختلف سکیورٹی معاملات اور سرحدی استحکام پر گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ خطے میں تعاون کو بڑھانے سے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نےجاپان میں 7بھارتی طیارے گرنے کا ذکر پھر چھیڑدیا
اس سے قبل جولائی 2025 میں بھی محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایران، پاکستان اور عراق کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں بھی علاقائی سلامتی اور تعاون کے فروغ پر زور دیا گیا تھا۔




