دنیا کے صدی کے سب سے طاقتور سمندری طوفان ’ملیسا‘ نے جمیکا کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ طوفان کے خطرات کے پیشِ نظر کیوبا میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ’ملیسا‘ طوفان کے جمیکا سے ٹکرانے کے بعد اب کیوبا کی سمت بڑھ رہا ہے جہاں حکام نے بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طوفان کے پیش نظر کیوبا کے مختلف علاقوں سے اب تک 7 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق یہ انخلا احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
امریکی نیشنل ہریکن سینٹر کے مطابق طوفان ’ملیسا‘ ابتدا میں کیٹیگری 5 کے خطرناک درجے تک پہنچ گیا تھا، جس دوران جمیکا میں 185 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی رہیں۔ طوفان کے نتیجے میں درخت اکھڑ گئے، عمارتوں کو نقصان پہنچا اور نظامِ زندگی مفلوج ہو گیا۔ بعد ازاں طوفان کی شدت میں کمی آئی اور یہ کیٹیگری 4 میں تبدیل ہو گیا۔
ادارے کے مطابق اس طوفان کے باعث شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ اب بھی موجود ہے۔ اب تک 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں 3 جمیکا، 3 ہیٹی اور ایک ڈومینیشا ریپبلک کا شہری شامل ہے۔
جمیکا کے وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے میں تاخیر نہ کریں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسا کوئی انفرا اسٹرکچر موجود نہیں جو کیٹیگری 5 کے طوفان کا مقابلہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نےجاپان میں 7بھارتی طیارے گرنے کا ذکر پھر چھیڑدیا
طوفان کے اثرات کیوبا اور قریبی جزائر پر بھی پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومتوں نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے ریسکیو اداروں کو الرٹ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے بعد بھی موسمی حالات کئی دن تک غیر معمولی رہ سکتے ہیں۔




