ایلون مسک نے نیا مصنوعی ذہانت انسائیکلوپیڈیا ”گروکی پیڈیا“ لانچ کر دیا

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ (XAI) نے ایلون مسک کی سربراہی میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نیا آن لائن انسائیکلوپیڈیا ”گروکی پیڈیا“ (Grokipedia) لانچ کر دیا ہے۔ اس پلیٹ فارم کو وکی پیڈیا کا متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

کمپنی کے مطابق، گروکی پیڈیا میں 8 لاکھ 85 ہزار مضامین شامل ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ماڈل ”گروک اے آئی“ (Grok AI) نے مختلف بنیادی ذرائع اور لائسنس یافتہ مواد کو ملا کر تیار کیے ہیں۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ گروکی پیڈیا کا مقصد “صرف اور صرف سچ پیش کرنا” ہے۔

گروکی پیڈیا کی نمایاں خصوصیات:

گروکی پیڈیا کو اوپن سورس بنایا گیا ہے، جہاں صارفین غلطیوں کی نشاندہی کے لیے ’Its Wrong‘ (یہ غلط ہے) بٹن استعمال کر سکتے ہیں۔ ہر مضمون میں ایڈٹ ہسٹری، فیکٹ چیک ٹائم اسٹیمپ اور شفافیت کے دیگر فیچرز شامل کیے گئے ہیں تاکہ صارفین درست معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔

وکی پیڈیا سے موازنہ:

خیال رہے کہ وکی پیڈیا 2001 میں قائم ہوا تھا اور اسے عطیات کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے صارفین اس کے مضامین کو اپڈیٹ کر سکتے ہیں۔ وکی پیڈیا کا مؤقف ہے کہ اس کا مواد ہمیشہ ”غیر جانب دار نقطہ نظر“ پر مبنی ہوتا ہے۔ ایلون مسک طویل عرصے سے وکی پیڈیا پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکی پیڈیا جانب دار اور “بائیں بازو کے نظریات کے زیر اثر” ہے۔ 2024 میں انہوں نے صارفین سے اپیل کی تھی کہ وہ وکی پیڈیا کو عطیات دینا بند کر دیں۔

وکی میڈیا فاؤنڈیشن کا ردعمل:

گروکی پیڈیا کے ابتدائی ورژن 0.1 میں تقریباً 8 لاکھ 85 ہزار مضامین شامل ہیں، جب کہ وکی پیڈیا پر 71 لاکھ سے زائد انگریزی مضامین موجود ہیں۔ وکی میڈیا فاؤنڈیشن نے گروکی پیڈیا کی لانچنگ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:”وکی پیڈیا انسانوں کی کاوش ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔ اے آئی کمپنیاں بھی اسی انسانی علم پر انحصار کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ گروکی پیڈیا کو بھی تربیت کے لیے وکی پیڈیا کے مواد کی ضرورت پڑی۔“

ماہرین کی رائے:

ماہرین کا کہنا ہے کہ گروکی پیڈیا ایک نئی سمت ضرور ہے، مگر فی الحال اس کے بیشتر مضامین اسی پلیٹ فارم پر انحصار کرتے ہیں جسے ایلون مسک ”متعصب“ قرار دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق سیاسی موضوعات پر کچھ تعصبات موجود ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت سے ممکنہ غلطیوں کا خطرہ بھی برقرار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا کراس کی نئی پیشکش، روشن اکاؤنٹ ہولڈرز کیلئے خصوصی رعایت

Scroll to Top