ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ آج ہوں گے، امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ

اسلام آباد: (کشمیر ڈیجیٹل) ملک بھر کے 188 سرکاری و نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ آج منعقد ہو رہا ہے جبکہ امتحانی مراکز کے اطراف میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد امیدواروں نے امتحان میں شرکت کے لیے فیس جمع کرائی۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے فی امیدوار 9 ہزار روپے فیس مقرر کی تھی۔ مجموعی طور پر ایک ارب 26 کروڑ روپے اکٹھے ہوئے جن میں سے 21 کروڑ اخراجات کے لیے اور ایک ارب 5 کروڑ روپے وفاقی و صوبائی میڈیکل یونیورسٹیوں کو منتقل کیے جائیں گے۔ پی ایم ڈی سی نے فی امیدوار 1500 روپے اپنے انتظامی اخراجات کے لیے جبکہ 7500 روپے یونیورسٹیوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ملک میں اس وقت 121 نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز کام کر رہے ہیں جن میں 77 میڈیکل اور 44 ڈینٹل کالجز شامل ہیں، جبکہ 67 سرکاری کالجز میں 49 میڈیکل اور 18 ڈینٹل کالجز موجود ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 46، سندھ میں 17، خیبرپختونخوا میں 11، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں ایک، ایک نجی میڈیکل کالج قائم ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا میں 6، پنجاب میں 25 اور سندھ میں 12 نجی ڈینٹل کالجز فعال ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پر امتحان ملتوی کرنے کا دباؤ ڈالا گیا۔ گزشتہ روزکراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران ایم ڈی کیٹ اسٹریٹجسٹ ڈاکٹر ساجد علوی نے کہا کہ “امتحان کل نہیں ہونا چاہیے، ملک کے مختلف علاقے حالیہ سیلابوں سے متاثر ہیں، طلبا ذہنی و جسمانی طور پر تیار نہیں۔”

انہوں نے الزام لگایا کہ پی ایم ڈی سی متاثرہ علاقوں کے طلبا کے مسائل کو نظر انداز کر رہی ہے۔ “ادارہ ذمہ دار ہے مگر امتحان کروا کر طلبا کو مزید مشکلات میں ڈال رہا ہے،” ان کا کہنا تھا۔ ڈاکٹر علوی نے دعویٰ کیا کہ چالیس ہزار سے زائد امیدوار ممکنہ طور پر امتحان نہیں دے پائیں گے جس سے میرٹ متاثر ہو گا۔

انہوں نے 2023 میں متعارف کرائی گئی ڈومیسائل اور سی این آئی سی کی شرط کو بھی غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ “طلبا سوچ رہے ہیں کہ امتحان کی تیاری کریں یا شناختی دستاویزات کے پیچھے وقت ضائع کریں۔”

ڈاکٹر علوی نے سندھ میں امتحان کے لیے سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کو کنڈکٹنگ باڈی بنانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “آئی بی اے کا میڈیکل ایجوکیشن سے کوئی تعلق نہیں، پھر بھی اسے ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کی ذمہ داری دی گئی ہے۔” انہوں نے پی ایم ڈی سی پر نصابی رہنمائی نہ دینے اور پرچے کے ممکنہ لیک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔

“طلبا کو صبح 6 بجے بلایا گیا ہے جبکہ امتحان 10 بجے شروع ہوگا، یہ ان کے لیے مزید اذیت کا باعث ہوگا،” انہوں نے کہا۔ ڈاکٹر علوی نے امتحانی مراکز پر سیکیورٹی بڑھانے، رینجرز کی تعیناتی اور امتحان ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔

ادھر سندھ حکومت نے امیدواروں کے لیے نادرا کارڈ کی شرط میں نرمی کر دی ہے۔ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف احمد شیخ کے مطابق جن امیدواروں کے پاس جیوینائل کارڈ، سی این آئی سی یا پاسپورٹ نہیں وہ اپنی میٹرک یا انٹر کی تصویری مارک شیٹ دکھا کر امتحان میں شریک ہو سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ “یہ سہولت صرف ایم ڈی کیٹ 2025 کے لیے دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبا امتحان دے سکیں۔” ڈاکٹر شیخ کے مطابق ٹیسٹ تین گھنٹے پر مشتمل ہوگا اور کسی امیدوار کو وقت مکمل ہونے سے پہلے ہال سے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا دوحہ میں مختصر قیام، امیرِ قطر سے ملاقات اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو

ایم ڈی کیٹ 2025 کے حوالے سے تنازع شدت اختیار کر گیا ہے کیونکہ ملک بھر میں امتحان کے انعقاد کے ساتھ ہی اس کے ملتوی ہونے کے مطالبات بھی بڑھ گئے ہیں۔

Scroll to Top