(کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کے دو مزید وزراء نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والوں میں وزیرِ خزانہ عبدالمجید خان اور وزیرِ خوراک و سکیورٹی چوہدری اکبر ابراہیم شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں وزراء نے اپنے استعفے باضابطہ طور پر وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق کو جمع کرادیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کو بھی ایک خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی جانب سے جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں مختص 12 آئینی نشستوں کی منسوخی کی تجویز کو مسترد کیا جائے۔
وزراء کی جانب سے لکھے گئے اس مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ JAAC کا مطالبہ ’’غیر آئینی، غیر قانونی اور اخلاقی طور پر غلط‘‘ ہے۔ ان کے مطابق یہ نشستیں ان تاریخی مہاجرین کی نمائندگی کی علامت ہیں جو 1947–48، 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران بھارتی قبضے والے جموں و کشمیر سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔27 لاکھ لوگوں کا فیصلہ چند افراد نے کیا
دستخط کنندگان کا کہنا ہے کہ یہ مخصوص نشستیں ان مہاجرین کو نمائندگی کا حق دیتی ہیں جو اب بھی آزاد کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے تحت ریاستی باشندے ہیں، اور ان نشستوں کو ختم کرنا نہ صرف ان کی تاریخی قربانیوں کے انکار کے مترادف ہوگا بلکہ پاکستان کے قومی مؤقف کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
عبدالماجد خان اور چوہدری اکبر ابراہیم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں مہاجر اور انصار کے نام پر نفرت انگیز بیانیہ پھیلایا گیا۔۔! ہم نے ہمیشہ آئین، قانون اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر بات کرنے پر زور دیا، لیکن ہماری اس کوشش کو بدتہذیبی کی نظر کردیا گیا
مراسلے میں یاد دلایا گیا ہے کہ آزاد حکومت جموں و کشمیر کا قیام 24 اکتوبر 1947 کو عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد پورے قبل از تقسیم ریاست جموں و کشمیر کی نمائندگی تھا، نہ کہ صرف آزاد شدہ علاقوں کی۔
اس میں کراچی معاہدہ 1949 اور بعد ازاں ہونے والی آئینی ترامیم کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جنہوں نے اس نمائندہ کردار کو قومی و بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا۔
دستاویز میں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کی دفعات 31(b) اور 22 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام ریاستی باشندے، چاہے وہ کہیں بھی مقیم ہوں، قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کے حق دار ہیں، جس میں پاکستان میں آباد مہاجرین اور بیرونِ ملک کشمیری بھی شامل ہیں۔
پناہ گزینوں کے نمائندوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر رہنماؤں کے کردار کو بھی یاد کیا، جنہوں نے پاکستان میں مہاجرین کی آبادکاری کے لیے تاریخی بنیاد رکھی۔ ان کے مطابق 1960 کے آزاد جموں و کشمیر ریفیوجیز رجسٹریشن اینڈ ریپریزنٹیشن ایکٹ اور اس کے بعد کی آئینی ترامیم نے ان کی نمائندگی اور ووٹنگ کے حق کو واضح طور پر تسلیم کیا۔
درخواست میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر JAAC کے مطالبے کو تسلیم کیا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان کے کشمیر پر سفارتی مؤقف کو کمزور کرے گا بلکہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیریوں کے حوصلے پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔
مزید برآں، درخواست گزاروں نے JAAC کے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اشتعال انگیز نعروں اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں کی مذمت کی، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور کشمیر کے عوام کے درمیان نظریاتی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دفاعی معاہدے پر بات چیت جاری ہے، فنانشل ٹائمز
آخر میں درخواست گزاروں نے وزیراعظم پاکستان اور قومی قیادت سے اپیل کی کہ وہ کھل کر عوامی سطح پر جموں و کشمیر کے مہاجرین کے آئینی حقوق اور نمائندگی کے حق میں مؤقف واضح کریں اور JAAC کی جانب سے نشستوں کی منسوخی کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کریں۔




