پاکستان کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف آئندہ وائٹ بال سیریز کی تیاریاں تیز کر دی ہیں اور اس سلسلے میں اہم حکمت عملی بھی ترتیب دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی ٹیم نے اس بار فلیٹ بیٹنگ ٹریکس نہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ جنوبی افریقہ کے طاقتور بیٹرز کو زیادہ آسانی نہ ملے۔ تھنک ٹینک نے کیوریٹرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پچز ایسے تیار کی جائیں جو باولرز خصوصاً اسپنرز کے لیے مددگار ثابت ہوں، تاکہ میچ یکطرفہ طور پر رنز کے لیے نہ بنے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ کا مقصد وائٹ بال کرکٹ میں قومی ٹیم کے باولنگ یونٹس کی طاقت کو بڑھانا اور حریف ٹیم کی بیٹنگ طاقت کو محدود کرنا ہے۔ اس بار کے پچز میں بیٹنگ کے لیے زیادہ سہولت فراہم نہیں کی جائے گی، تاکہ کھیل زیادہ متوازن اور مقابلہ جاتی ہو۔ اس حکمت عملی کے تحت اسپنرز کے لیے بہتر سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ میچ کے اہم لمحات میں حریف ٹیم پر دباؤ ڈال سکیں۔
سیریز کے لیے قومی اسکواڈ پر مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اضافی اسپنر کو اسکواڈ میں شامل کرنے کا امکان کافی زیادہ ہے، تاکہ ٹیم کو مختلف حالات میں بہتر انتخاب کی سہولت حاصل ہو۔ سلیکشن کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بابراعظم، نسیم شاہ سمیت تمام وائٹ بال اسپیشلسٹ کھلاڑی زیرِ غور ہیں اور ٹیم کی ضرورت کے مطابق کسی کھلاڑی کو اسکواڈ میں شامل یا نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔
سلیکشن کمیٹی کے مطابق ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے تمام کھلاڑی دستیاب ہیں اور اب ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی تیاریوں کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئندہ میچز کے لیے بہترین دستیاب کھلاڑیوں کے ساتھ متوازن اسکواڈ تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان ہر میچ میں مضبوط پوزیشن پر نظر آئے۔
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریز 28 اکتوبر، 31 اکتوبر اور یکم نومبر کو کھیلی جائے گی۔ اس کے بعد دونوں ٹیمیں ون ڈے سیریز میں مدمقابل ہوں گی، جو 4، 6 اور 8 نومبر کو شیڈول ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ہر میچ میں قومی ٹیم اپنی نئی حکمت عملی کے تحت کھیل پیش کرے گی تاکہ حریف ٹیم پر دباؤ بنایا جا سکے اور شائقین کو دلچسپ مقابلے دیکھنے کو ملیں۔
یہ بھی پرھیں: بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر اسسٹنٹ کمشنر نے والد کو بھی ویکسین پلادی
پاکستان کرکٹ ٹیم کی یہ حکمت عملی خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن بہت طاقتور ہے اور اگر پچز فلیٹ رہیں تو بڑے رنز کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ قومی ٹیم کا مقصد میچز کو زیادہ متوازن اور مقابلہ جاتی بنانا ہے، جس کے لیے باولرز کی مدد ضروری ہے۔ اس بار کی سیریز میں اسپنرز کی کارکردگی ٹیم کی کامیابی کے لیے کلیدی ثابت ہو سکتی ہے۔



