پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما آغا سراج درانی انتقال کر گئے

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج خان درانی انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے کراچی کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔ بدھ کے روز ان کی حالت مزید بگڑنے پر وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی عمر 72 سال تھی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق آغا سراج درانی کو ایک ماہ قبل برین ہیمبرج ہوا تھا، جس کے بعد انہیں کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ کئی روز سے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں زیر علاج تھے۔ ان کے انتقال کی تصدیق سرکاری ٹی وی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی کی۔

مرحوم آغا سراج درانی کا تعلق سندھ کے ضلع شکارپور سے تھا۔ ان کا شمار پیپلز پارٹی کے اُن رہنماؤں میں ہوتا تھا جنہوں نے پارٹی کے ساتھ طویل عرصہ وفاداری نبھائی۔ وہ 31 مئی 2013 سے 25 مئی 2024 تک سندھ اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے پر فائز رہے، جبکہ مارچ 2022 سے اکتوبر 2022 تک قائم مقام گورنر سندھ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

آغا سراج درانی کا تعلق ایک بااثر سیاسی خاندان سے تھا۔ ان کے والد آغا صدرالدین درانی اور چچا آغا بدرالدین درانی بھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی کے سینٹ پیٹرک اسکول سے حاصل کی اور سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری لی۔ انہوں نے سیاسی سفر کا آغاز 1985 کے انتخابات میں کیا اور 1988 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں وہ متعدد بار منتخب ہوکر ایوان کا حصہ رہے اور مختلف وزارتوں پر بھی فائز رہے۔

آغا سراج درانی کو دورانِ زندگی مختلف مقدمات اور نیب کی کارروائیوں کا سامنا بھی رہا، تاہم انہوں نے ہمیشہ الزامات کی تردید کی اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اپنی صفائی پیش کی۔ ان کے انتقال پر ملک بھر سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے آغا سراج درانی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آغا سراج درانی نے “جمہوری اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔”

یہ بھی پڑھیں: بھارت-افغانستان اعلامیہ: کشمیری عوام کا شدید احتجاج، پاسبانِ حریت کا افغان سفیر کو احتجاجی مراسلہ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ “آغا سراج درانی پیپلز پارٹی کے مخلص، وفادار اور نظریاتی رہنما تھے جنہوں نے ہمیشہ صوبے کے عوام کی خدمت کو ترجیح دی۔”

ان کی میت کو آبائی علاقے شکارپور منتقل کیا جا رہا ہے جہاں نمازِ جنازہ اور تدفین مقامی قبرستان میں کی جائے گی۔

Scroll to Top