کوٹلی (سخاوت سدوزئی /کشمیر ڈیجیٹل)آزادکشمیر کے سینئر سیاستدان و سابق وزیر حکومت اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما راجہ نصیر احمد خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں ۔ راجہ نصیر خان علالت کے باعث ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں زیر علاج تھے ۔
آزاد جموں کشمیر کی ممتاز سیاسی شخصیت،پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں کشمیر کے رہنماء راجہ نصیر احمد خان 13 جولائی 1953 کو ضلع کوٹلی کے حلقہ سہنسہ، گاؤں انوہی سرہوٹہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق ایک معزز منگرال راجپوت خاندان سے تھا۔
مرحوم نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے پرائمری سکول سے حاصل کی، میٹرک سرساوہ کے ہائی سکول سے کیا، جس کا امتحانی مرکز کوٹلی میں تھا، بعد ازاں ایف اے کی تعلیم ڈگری کالج کوٹلی سے مکمل کی تھی۔
راجہ نصیر احمد خان مرحوم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز لوکل کونسلر کی حیثیت سے کیا تھا۔ وہ دو بار لوکل کونسلر اور بعد ازاں ڈسٹرکٹ کونسلر منتخب ہوئے۔ ایک دہائی تک اپنے حلقے کے صدر اور ایک مرتبہ ضلع کے صدر بھی رہے۔
انہوں نے 1996ء میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ 1996 سے 2011 تک تین بار رکن قانون ساز اسمبلی رہے۔ 2003 اور 2006 میں وزیر بلدیات کے منصب پر فائز رہے۔ 2009 میں راجہ محمد فاروق حیدر خان کو آزاد کشمیر کا وزیر اعظم منتخب کروانے میں انہوں کلیدی کردار ادا کیا۔
جب سردار عتیق احمد خان نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر فاروق حیدر کو وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا تو راجہ نصیر احمد خان مرحوم نے مسلم کانفرنس سے راہیں جدا کر لیں۔ بعد ازاں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے بانی اراکین اور سینئر رہنماؤں میں شامل تھے۔
2011 میں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے دوبارہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے، 2016 میں پھر کامیاب ہو کر 2017 میں تیسری مرتبہ وزیر بلدیات بنے۔ مرحوم پارٹی کے مرکزی نائب صدر اور سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن بھی رہے۔
راجہ نصیر احمد خان مرحوم کی سیاسی زندگی اصول پسندی، خدمت خلق اور بے لوث جدوجہد سے عبارت تھی۔ ان کے انتقال سے آزاد کشمیر ایک کہنہ مشق، مدبر اور باوقار رہنماء سے محروم ہو گیا ہے۔
آزاد جموں کشمیر کے سابق وزیربلدیات راجا نصیر احمد خان مرحوم کی نمازجنازہ آج 13 اکتوبر بروز سموار شام 04:30 بجے کوٹلی آزاد جموں کشمیر میں آبائی گاؤں انہوہی سرہوٹہ ادا کی جائے گی ۔




