باغ، تحصیل دھیرکوٹ کی ایک باہمت اور بہادر خاتون کی قربانیوں اور حوصلے کی مثال زبان زدِ عام ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب اکثر لوگ گھروں تک محدود تھے، اس مشکل وقت میں زوبیہ خورشید راجہ نے زخمیوں اور مریضوں کو اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کر کے اسپتال پہنچایا۔
زوبیہ خورشید راجہ لاک ڈاؤن کے دوران جب ایک زخمی کو لے کر باغ اسپتال پہنچیں تو ایک انتشاری گروہ نے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔ ان کی گاڑی میں ایک پولیس اہلکار بھی موجود تھا۔
زوبیہ خورشید راجہ، جو پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی کارکن اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی طالبہ ہیں، نے واقعے کے بارے میں کشمیر ڈیجیٹل کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ انہیں محلے سے اطلاع ملی کہ علاقے میں خون ریزی ہو رہی ہے۔ وہ فوراً تشویش کے عالم میں گھر سے نکلیں اور اسپتال پہنچیں، جہاں ان کے سامنے تین سے چار لاشیں لائی گئیں۔ ایک زخمی دل کے مریض کی حالت تشویشناک تھی، جسے انہوں نے اپنی گاڑی میں ڈال کر باغ اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
دھیرکوٹ میں لوگ ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے تھے۔ جب وہ باغ اسپتال پہنچیں تو ایمرجنسی میں رش تھا۔ اسی دوران شور اٹھا کہ یہ خاتون ایک پولیس اہلکار کو لے کر آئی ہیں۔ مشتعل افراد ان کی گاڑی کی طرف لپکے اور حملہ کرنے کی کوشش کی۔ زوبیہ خورشید راجہ نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی بھگا کر خود کو اور زخمی کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔
زوبیہ خورشید راجہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کی کارکن ہونے کے ناطے ان کی تربیت ایسی ہے کہ ہنگامی حالات میں گھبرانے کے بجائے صورتحال کو سنبھالنا چاہیے۔ ان کے ذہن میں یہی تھا کہ اگر ان کے عمل سے کسی کی جان بچ جائے تو گاڑی کا نقصان کوئی معنی نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: خشک میوہ جات کی قیمتوں کو بھی پرلگ گئے،سب سے مہنگا میوہ کون ساہے؟
زوبیہ خورشید راجہ کے اس اقدام کو مقامی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔ اس مشکل گھڑی میں ان کا جذبۂ انسانیت اور حوصلہ خواتین کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔




