سینیئر تجزیہ کار ابرار حیدر نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں کہا ہے کہ بیرون ملک رہنے والے اور پاکستان میں مقیم کشمیری ریاست کے اتنے ہی مالک ہیں جتنے آزاد کشمیر میں رہنے والے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ مذاکرات میں 12 نشستوں کا تنازعہ حل ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی مشکل نہیں۔ “ہمارے بہت سے کشمیری پاکستان اور دیگر ممالک میں بڑی تعداد میں آباد ہیں، یہ سب ہمارا حصہ ہیں اور ہمیں انہیں ساتھ رکھنا ہے۔”
ابرار حیدر نے کہا کہ “جو 1947 میں آئے وہ بھی اور جو آج ہیں وہ بھی کشمیری ہیں، ہمیں جموں کو بھی ساتھ رکھنا ہے، ہم انہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم انہیں ایوانِ بالا کا حصہ بنائیں، وہ یہاں آ کر بیٹھیں اور سب مل کر فیصلے کریں۔ ہم سب ایک ہیں، یہ سب لوگ اس ریاست کے اتنے ہی مالک ہیں جتنے مظفرآباد والے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “بھیم سنگھ نے 5 اگست 2019 سے بہت پہلے بھارتی سپریم کورٹ میں ایک رِٹ دائر کی تھی کہ جموں کو الگ کیا جائے۔ یہ مہاراجہ کا پوتا ہے۔ جموں ریاست کا حصہ ہے ہم جموں کے لوگوں کو کیسے الگ کر سکتے ہیں ؟”
ابرار حیدر نے کہا کہ موجودہ اعتراضات کی وجہ سے اگر یہاں بےچینی پیدا ہو رہی ہے تو اس کا حل یہی ہے کہ جموں اور باہر کے کشمیری یہاں آئیں، ایوانِ بالا میں بیٹھ کر مسائل پر بات کریں تاکہ اتحاد قائم ہو۔
یہ بھی پڑھیں: یو این کے باہر کشمیریوں کا احتجاج، سکھ بھی شریک
ابرار حیدر نے بھارت کی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایل او سی پر پاک فوج موجود نہ ہو تو بھارت کو قبضہ کرنے میں صرف20 سے 25 منٹ لگیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی پارلیمنٹ نے یہ قرارداد منظور کی ہوئی ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر (POK) بھارت کا حصہ ہے اور اسے واپس لینا ہے۔ ابرار حیدر کے مطابق پاکستان فوج ہماری زمین اور ہماری محافظ ہے، آزاد کشمیر کو پاک فوج کی ضرورت ہے۔
ابرار حیدر نے کہا کہ ہمارا اصل دشمن بھارت ہے اور ہمیں اپنی تیاری بھارت کے خلاف کرنی چاہیے۔ انہوں نے بھارت کو “زخمی شیر اور سانپ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ڈسنے کی کوشش ضرور کرے گا لیکن اس کا سر کچل دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر حال میں اپنی تیاریاں بھارت کے خلاف کرنی ہیں۔




