پاکستان کے ٹاپ 40 بزنس گروپس کی فہرست جاری، فوجی فاؤنڈیشن نمبر ون

(کشمیر ڈیجیٹل)اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ تھنک ٹینک نے پاکستان کے ٹاپ 40 بزنس گروپس کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے مطابق فوجی فاؤنڈیشن 5.9 ارب ڈالر مارکیٹ کیپ کے ساتھ ملک کا سب سے بڑا بزنس گروپ قرار پایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوجی فاؤنڈیشن کے 60 فیصد حصص عوام کے پاس موجود ہیں۔

ویلتھ پرسیپشن انڈیکس 2025 میں بتایا گیا ہے کہ ساڑھے تین ارب ڈالر کی ایکویٹی انویسٹمنٹ کے ساتھ سر انور پرویز کو پاکستان کا نمبر ون بزنس مین قرار دیا گیا، جبکہ پرائیویٹ بزنس گروپس میں سید بابر علی کو پہلی پوزیشن دی گئی ہے۔

پبلک لسٹڈ گروپس و کارپوریشنز میں فوجی فاؤنڈیشن پہلے نمبر پر رہی جس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 5.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ دوسرے نمبر پر سر انور پرویز کا بیسٹ وے گروپ ہے جس کی مالیت 4.513 ارب ڈالر ہے۔ محمد علی ٹبہ گروپ 2.591 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے، میاں محمد منشا 2.399 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے اور حسین داؤد 2.390 ارب ڈالر کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔

فہرست میں شامل دیگر نمایاں ناموں میں ریاض ادریس، عارف حبیب، سلطان علی الانہ، صہیب ملک، ناصر محمود کھوسہ، سلطان علی لاکھانی، رفیق محمد حبیب، شیخ مختار احمد، افتخار اے شیرازی، عامر پراچہ، اعزاز حسین، عباس حبیب، محمد مقصود اسماعیل، طارق سید اور جہانگیر صدیقی شامل ہیں۔

دوسری جانب 20 ارب پتی بزنس گروپس کی علیحدہ فہرست میں سید بابر علی پہلے نمبر پر رہے۔ ان کے علاوہ فواد مختار، میاں عبداللہ، سردار یاسین ملک، ڈاکٹر گوہر اعجاز (ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز)، حبیب اللہ خان، میر شکیل الرحمن، سید محمد جاوید، عقیل کریم ڈھیڈی، بشیر جان محمد، میاں عامر محمود، نسرین محمود قصوری، جہانگیر ترین، پیر محمد دیوان، یعقوب احمد، علیم خان، میاں احسن، اشرف موکاتے، شاہد سورتے اور ندیم ملک بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ 40 بزنس گروپس پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں بلکہ ملکی جی ڈی پی اور ٹیکس ریونیو میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت ان بزنس ٹائیکونز کو مزید سہولتیں اور سازگار پالیسیاں فراہم کرے تو یہ گروپس ملکی معیشت کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں نئی ملازمتیں بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ صنعتی ترقی میں ہی خوشحالی کا راز چھپا ہے اور پاکستان میں بے مثال کاروباری ٹیلنٹ موجود ہے۔ اگر حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر کام کریں تو ملک اپنی اصل معاشی طاقت حاصل کر سکتا ہے۔

کاروباری برادری نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے، بانیانِ پاکستان کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے، کاروباری آسانیاں پیدا کی جائیں اور سخت پالیسیوں و غیر ضروری قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد میں مرغی، سبزی اور پھلوں کے نئے نرخ جاری

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی اس رپورٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دیرپا پالیسیوں کی ضرورت ہے اور اگر حکومت و بزنس گروپس مل کر کام کریں تو ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔

Scroll to Top