سندھ طاس معاہدےکے معاملے میں بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے، تجزیہ کار عبدالمنان سیف اللہ

معروف تجزیہ کار عبدالمنان سیف اللہ کا کہنا ہے کہ بھارت نہ صرف سندھ طاس معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے جاری مظالم پر بھی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں ناکام رہا ہے۔

عبدالمنان سیف اللہ کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک جیسے بڑے ممالک بھی بھارت کے ساتھ کھڑے دکھائی نہیں دیتے۔

تجزیہ کار کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر میں پچھلے آٹھ دہائیوں سے ظلم و ستم ڈھا رہا ہے، لیکن اب دنیا پہلے کی نسبت زیادہ آسانی سے ان حقائق کو دیکھ اور سمجھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کشمیریوں کے منہ میں اپنی مرضی کی بات ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر کشمیریوں نے ان تمام چالوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

عبدالمنان سیف اللہ نے بتایا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے سے بھی راہِ فرار اختیار کرنا چاہتا ہے۔ وہ کئی سالوں سے پاکستان کو خطوط کے ذریعے اس معاہدے پر نظرِثانی کے مطالبے کرتا آ رہا ہے، حالانکہ پاکستان پہلے ہی معاہدے کے تحت تین بڑے دریا بھارت کے حوالے کر چکا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بہتے دریاؤں کا قدرتی بہاؤ موڑنا ممکن نہیں، ماحولیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کا بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ ہونا چاہیے، ماہرین کا مظفرآباد میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب

ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو طے پانے میں نو سال لگے تھے، جو ایک سادہ معاہدہ نہیں تھا بلکہ بڑی سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ بھارت نے پورا اپنا پلان تیار کرکہ دیا تھا کہ ہم اپنے صحراوں  کو ہریالی دیں گے ان کا یہ پلان آج تک پورا نہیں ہوا۔

تجزیہ کار نے انکشاف کیا کہ اب خود بھارت کے اندر بغاوت کی فضا پیدا ہو رہی ہے۔ سکھ برادری، جو بھارتی فوج میں ایک بڑی تعداد میں شامل ہے، اب کھل کر بھارتی پالیسیوں کے خلاف بول رہی ہے۔ سکھ فوجیوں نے پاکستان کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا ہے اور یہاں تک کہا ہے کہ وہ بھارتی فورسز کو پنجاب سے گزرنے نہیں دیں گے۔ ان کے مطابق خالصتان تحریک اور دیگر علیحدگی پسند تحریکیں بھارت کے اندرونی بحران کا ثبوت ہیں۔

Scroll to Top