یومِ مزدور: مزدور پسینے میں نہائے، افسر چھٹی منائے

آج یکم مئی ہے، دنیا بھر میں محنت کشوں کے حقوق کا دن یومِ مزدور منایا جا رہا ہے۔ حکومتی دفاتر بند، تعلیمی ادارے سنسان اور مراعات یافتہ طبقہ آرام دہ گھروں میں چھٹی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ لیکن سڑکوں پر، تعمیراتی سائٹس پر، ورکشاپس میں، بازاروں کے تھڑوں پر اور اینٹوں کے بھٹوں پر وہی روزانہ والےمناظر آج بھی دیکھنے کو ملیں گے۔

آج کے دن بھی مزدور طبقہ حسبِ معمول اپنے کام میں جُتا ہوا، پیٹ کی آگ بجھانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، اس دن کی مناسبت سے جب کشمیر ڈیجیٹل کے نمائندے نے انٹرویوز کیے تو مزدور طبقے کے یہ جوابات سامنے آئے، ایک مزدور نے کہا کہ ہماری کیسی چھٹی ، ہمیں دہاڑی کی فکر کی ہے۔ کام کریں گے تو رات کو بچوں کے لیے روٹی میسر ہوگی۔

ایک اور محنت کش کا کہنا تھا کہ یہ چھٹی تو صرف افسران کے لیے ہوتی ہے، جنہیں تنخواہ وقت پر مل جاتی ہے۔ ہم روز کما کر روز کھاتے ہیں۔ اگر نہ نکلیں تو فاقہ ہو گا۔ایک اور مزدور نے کہا کہ یہ دن تو اور مشکل ہوتا ہے کیونکہ عام دنوں کی نسبت آج دہاڑی بھی کم ملتی ہے۔

لیبر ڈے پرسرکاری سطح پر تقاریب، تقاریر، اور اخبارات میں اشتہارات تو ہوتے ہیں، لیکن مزدوروں کی عملی حالت میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مزدور طبقہ اس وقت مہنگائی، بیروزگاری اور غیر یقینی معاشی حالات کے ہاتھوں سخت دباؤ کا شکار ہے۔ لیبر قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ کم از کم اجرت دی جا رہی ہے، نہ ہی صحت و تحفظ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ میں عالمی یوم مزدور کے موقع پر احتجاجی ریلی و جلسہ

سوال یہ ہے کہ کیا ہر سال اسی طرح صرف تقریریں، بینرز اور تعطیل سے یومِ مزدور منایا جائے گا؟ یا اس دن کو حقیقی معنوں میں مزدوروں کی بہتری کے اقدامات سے جوڑا جائے گا؟

Scroll to Top