کشمیر لبریشن سیل کے نام پر اپنے لوگوں کو نوازا گیا، راجہ امجد علی خان کا انکشاف

عوامی ایکشن کمیٹی کے لیگل ایڈوائزر راجہ امجد علی خان نے آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کے بارے میں کہا کہ کشمیر لبریشن سیل کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سیل کے نام پر اپنے قریبی افراد کو نوازا گیا اور ان پر سیاسی کارکنوں کا لیبل لگا کر مراعات دی گئیں۔

راجہ امجد نے الزام عائد کیا کہ راجہ فاروق حیدر نے گزشتہ روز جو زبان استعمال کی، وہ نہ صرف غیر پارلیمانی تھی بلکہ گالم گلوچ کی حدود بھی پار کر چکی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ لوگ سیاست میں بڑے عہدے اور ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے آئے، نہ کہ عوام کی خدمت کے لیے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر “مکالمے” کے لیے بھی تیار ہیں کہ 1948 کے بعد سے جو لوگ سیاسی رہنما کہلواتے رہے ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے یہ بات کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں ایڈووکیٹ سید اشفاق سے گفتگو کے دوران کہی۔

راجہ امجد نے مزید کہا کہ راجہ فاروق حیدر فرسٹریشن کا شکار ہیں کیونکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے حقیقی عوامی مسائل اجاگر کیے ہیں جس سے ان کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق راجہ فاروق اور ان کے ساتھیوں کو اب اقتدار چھن جانے کا خوف لاحق ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 75 سال سے تحریک آزادی کشمیر کے نام پر نوسربازی کی جا رہی ہے اور جب عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حقوق کی بات کی، تو ان لوگوں نے اخلاقیات کو بھی پس پشت ڈال دیا۔

مزید کہا کہ ان سیاستدانوں نے زکوٰة منافع فنڈز سے ذاتی علاج کروایا، عیاشیاں کیں، اور کشمیر سیل کو بھی اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ ان کے ورکرز زکوٰة فنڈز، سرکاری اسکیموں، کشمیر سیل کے فنڈز یا ملازمتوں کے لیے ان کی چاپلوسی کرتے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سب کو بے نقاب کر دیا ہے۔

راجہ امجد علی خان کا کہنا تھا کہ اگر سیاست کا مطلب صرف اقتدار حاصل کرنا، مراعات لینا اور عیاشیاں کرنا ہے تو عوام کو حقیقی جمہوریت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی نے ہی ان سیاستدانوں کو بتایا ہے کہ اصل سیاست کیا ہوتی ہے۔

Scroll to Top