نئی آٹو پالیسی :آلٹو، کلٹس اور اسٹونک کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

پاکستان کی مجوزہ نئی آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت عوام اور آٹو انڈسٹری کے لیے ڈرافٹ پالیسی میں 1000cc تک کی تمام مقامی تیار کردہ اور درآمد شدہ گاڑیوں پر سے 2.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کو مکمل طور پر ختم کرنے اور کسٹم ڈیوٹی میں بتدریج رعایت کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ اگر یہ پالیسی حتمی طور پر منظور ہو جاتی ہے اور کمپنیاں اس کا پورا فائدہ صارفین تک منتقل کرتی ہیں تو سوزوکی آلٹو، کلٹس اور کیا اسٹونک جیسی مقبول گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پانچ سالہ آٹو پالیسی کے حتمی مسودے کی منظوری دے دی ہے، جسے حتمی توثیق کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھیجا جائے گا۔ آئی ایم ایف اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت ان تجاویز پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ قانون سازی کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی آٹو مارکیٹ میں چائینہ3 نئی الیکٹرک اورہائبرڈ گاڑیاں متعارف

2.5% FED کے خاتمے سے متوقع نئی قیمتیں اور بچت:

نئی آٹو پالیسی کے ڈرافٹ میں ٹیکسز اور درآمدی ڈیوٹیز کے فریم ورک میں اہم تبدیلیاں شامل کی گئی ہیں، جبکہ 2031ء تک روایتی انجن والی گاڑیوں اور اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز (SUVs) پر بھی کسٹم ڈیوٹی کو کم کر کے 15 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ 2.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے سے گاڑیوں کی قیمتوں اور متوقع بچت کی صورتِ حال درج ذیل ہے:

مختلف گاڑیوں پر ممکنہ اثرات اور مجموعی ریلیف:

پالیسی تجاویز کے تحت سوزوکی آلٹو کے مختلف ماڈلز خریدنے والوں کو 73 ہزار سے 81 ہزار روپے تک کی بچت ہوگی، جبکہ سوزوکی ایوری 72 ہزار روپے سے زائد سستی ہو جائے گی۔

سوزوکی کلٹس کے VXL ماڈل میں 2.5 فیصد ڈیوٹی ختم ہونے سے 1,06,321 روپے کا ریلیف ملے گا۔ اس کے علاوہ ڈیوٹیز میں مزید ترامیم اور کسٹم اصلاحات کے ساتھ طویل المدتی بنیادوں پر سوزوکی کلٹس کی قیمت 43 لاکھ سے کم ہو کر 38 لاکھ روپے تک آنے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، کیا اسٹونک کے ٹربو ماڈلز چونکہ 998cc انجن کیٹیگری میں آتے ہیں، اس لیے یہ بھی 2.5% ڈیوٹی چھوٹ کی کیٹیگری کا حصہ ہیں۔ قیمت زیادہ ہونے کے باعث روپے کے لحاظ سے سب سے بڑی رعایت ‘کیا اسٹونک ٹربو S’ پر ملے گی جس کی قیمت میں 1.43 لاکھ روپے سے زائد کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔

تاہم حکومت اور آٹو مینوفیکچررز کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ قیمتوں میں یہ تمام کمی تاحال ڈرافٹ تجاویز کا حصہ ہے اور حتمی فیصلہ آئی ایم ایف کی توثیق، کابینہ کی منظوری اور متعلقہ قانون سازی کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔