دنیا بھر میں ‘سفید چھڑی کا عالمی دن’ آج منایا جا رہا: مظفرآباد میں آگاہی واک کا انعقاد

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج سفید چھڑی کا عالمی دن (وائٹ کین ڈے) مکمل عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد بصارت سے محروم خصوصی افراد سے یکجہتی کا اظہار کرنا ہے۔

اس سلسلے میں دارالحکومت مظفرآباد میں بھی عوام اور خصوصی افراد میں شعور بیدار کرنے کیلیے ایک خصوصی آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں متعدد افراد نے شرکت کی۔

نیشنل سپیشل سکول میں سپورٹس گالا کا انعقاد

اس روز کی مناسبت سے مظفرآباد میں نیشنل سپیشل سکول اینڈ سسٹم میں سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے ایک پروقار ‘سپورٹس گالا’ کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں ہزاروں معذور اور بصارت سے محروم بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ اس موقع پر اسکول کے اساتذہ اور سپورٹس ڈائریکٹر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی بچوں کو کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں کے مساوی مواقع فراہم کرنا ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیل کے میدان میں ان بچوں کی شرکت نہ صرف ان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہے بلکہ انہیں معاشرے کا ایک فعال اور خود مختار حصہ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سفید چھڑی کا تاریخی پس منظر اور اہمیت:

اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال 15 اکتوبر کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کی شروعات 1964ء میں ہوئی تھی جب اقوامِ متحدہ نے پہلی مرتبہ سفید چھڑی کو نابینا افراد کیلیے بطور امید اور سہارا منتخب کیا تھا۔ اس کے بعد ہر برس سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے آگاہی سیمینارز اور ریلیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس طرح ‘بیٹن’ کہلانے والی خاکی چھڑی کسی عہدے اور ذمہ داری کی علامت ہے، بالکل اسی طرح ‘سفید چھڑی’ نابینا افراد کی بے بسی اور محتاجی کی علامت ہے تاکہ لوگ ان کی ہر ممکن مدد کریں، انہیں راستہ بتائیں اور انہیں پہلے گزرنے دیں۔

آگاہی اور عالمی و علاقائی اعداد و شمار:

یہ دن منانے کا بنیادی مقصد بصارت سے محروم افراد کے مسائل سے معاشرے کو آگاہ کرنا ہے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ تھوڑی سی توجہ سے یہ افراد بھی مفید شہری بن سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ سے زائد افراد نابینا ہیں اور ماہرین کے مطابق 2050ء تک یہ تعداد بڑھ کر 11 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ فی الوقت جنوبی ایشیا میں 1 کروڑ 17 لاکھ، مشرقی ایشیا میں 60 لاکھ 20 ہزار اور جنوب مشرقی ایشیا میں 30 لاکھ 50 ہزار افراد آنکھوں کے امراض سے متاثر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وادیِ نیلم میں شدید بارش اور برفباری ، انتظامیہ کی سیاحوں اور شہریوں کیلیے انتباہی ہدایات

پاکستان میں صورتحال اور درپیش چیلنجز:

پاکستان میں تقریباً 20 لاکھ افراد بینائی سے مکمل طور پر محروم ہیں جبکہ 60 لاکھ کے قریب افراد جزوی طور پر نابینا ہیں۔ ملک کی 17 فیصد آبادی ذیابیطس کا شکار ہے، جو آنکھ کے عدسے کے متاثر ہونے اور موتیائے کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان میں ان افراد کو کارآمد بنانے والے سرکاری ادارے ناپید ہیں اور انہیں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث روزمرہ امور میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، تاہم کچھ نجی ادارے اس کارِ خیر میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

معاشرتی ذمہ داری اور حقوق کا تحفظ:

دنیا بھر میں اس دن کے موقع پر نابینا افراد کے حقوق، تعلیم، روزگار اور صحت کی دیکھ بھال جیسی اولین ضروریات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے۔ ان افراد کی معاشرتی شمولیت، مہمان نوازی اور ان کی زندگی کے مسائل کو شفافیت سے پیش کرنا انتہائی اہم ہے، اور ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔