دھماکا

کوہاٹ: پولیس لائن کے قریب زوردار دھماکا، 15 افراد شہید،متعدد زخمی

خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ میں میں پولیس لائن کے قریب نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے باعث 15 افراد شہید اور پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق دھماکا نماز جمعہ کے دوران ہوا، دھماکے کے باعث مسجدکے باہر گڑھا پڑ گیا، دھماکے سے مسجدکا بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا اور دیواربھی گرگئی۔

اس حوالے سے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی پرانی پولیس لائنز کے گیٹ ٹکرائی، گاڑی ٹکرانےکے بعد دھماکا ہوا اور فائرنگ بھی ہوئی۔

پولیس کے مطابق دھماکے کے زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیاجا رہا ہے، زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ایم ایس ڈی ایچ کیو اسپتال طاہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ 15لاشیں اور 50 سے زائد زخمی اسپتال لائےگئے، ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیاگیا ہے اور پولیس لائنز کے قریب مزید نفری پہنچ گئی ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، دھماکے کی جگہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوہاٹ کے پرانا پولیس لائنزمسجد میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔

اپنے بیان میں وزیراعظم نے دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔