مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اجتماعی سلامتی کے عزم کا اظہار ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

Pakistan SCO Summit 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت، اجتماعی سلامتی اور علاقائی امن کے حوالے سے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے، جو کسی بھی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد کسی قسم کی محاذ آرائی یا تقسیم پیدا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس سی او کو مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تنظیم کا ایک فعال اور ذمہ دار رکن ہے جو تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ اور ایس سی او چارٹر کے رہنما اصولوں پر سختی سے عمل پیرا رہنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

وزیراعظم نے بشکیک میں ایس سی او رہنماؤں کے اس تاریخی اجلاس کی شاندار میزبانی پر صدر صادر ژاپاروف اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کرغزستان کو ایس سی او کی چیئرمین شپ کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کرغزستان اور ازبکستان کی قیادت اور عوام کو ان کے یومِ آزادی پر دلی مبارکباد بھی پیش کی۔

ایس سی او کے 25 سال اور عالمی چیلنجز:

شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کو عالمی امن اور استحکام کے لیے ایک انتہائی اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے تحت اس کا رکن ہونے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے قیام کے 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگِ میل ہے؛ ایک ننھے پودے سے شروع ہونے والی یہ تنظیم آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکی ہے جو پورے خطے کو سلامتی اور استحکام کا سایہ فراہم کررہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی منظرنامہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، عالمی معیشت کے انتشار، موسمیاتی بحران اور ٹیکنالوجی میں بے مثال تبدیلیوں سے دوچار ہے۔ ایسے پیچیدہ ماحول میں ایس سی او ان بڑے چیلنجز سے مل کر نمٹنے اور اپنے عوام کے لیے امن، سلامتی اور خوشحالی یقینی بنانے کے اجتماعی عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔

علاقائی بحران اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت:

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ اور ایس سی او چارٹرز کے بنیادی اصولوں کا احترام کرتا ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ رواں سال کے اوائل میں ایک ایس سی او رکن ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید علاقائی بحران کے دوران پاکستان نے امن کی بھرپور حمایت کی۔ اس بحران کے باعث توانائی کی فراہمی کے اہم راستوں میں خلل پڑا جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور پاکستان سمیت عالمی برادری کو بھاری اقتصادی قیمت ادا کرنا پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ ان مشکل حالات میں پاکستان نے ایک ایماندار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششیں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی صورت میں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں، جو علاقائی کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ان تمام برادر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کی۔

مکہ دفاعی معاہدہ اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت:

شہباز شریف نے زور دے کر کہا کہ حال ہی میں طے پانے والا سہ فریقی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اجتماعی سلامتی کا ضامن ہے اور یہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے کا حامی رہا ہے، تاہم کثیرالجہتی تنظیموں کو اس قابل بنانا ضروری ہے کہ وہ امنگوں اور وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کر سکیں۔ وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتِحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے بے گناہ عوام ناقابلِ تصور انسانی تکالیف کا سامنا کررہے ہیں؛ فلسطینی مائیں اپنے بچوں کے غم میں صدمے سے دوچار ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں اور نسلیں خوف، محرومی اور ناانصافی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام سمیت تمام مظلوم اقوام کو ان کے حقِ خودارادیت کے حصول میں مدد دینے کے عزم کو عملی جامہ پہنائے۔

آبی وسائل پر موقف اور انسدادِ دہشت گردی:

جنوبی ایشیا کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ خطہ پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لاسکتا۔ پانی کے مسئلے پر انہوں نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پانی خطے کی زندگی کی بنیاد ہے، یہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو سہارا دیتا، زمینوں کو سیراب کرتا اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ لہٰذا پانی کو کبھی ہتھیار، دباؤ کے ذریعے یا سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق معاہدے پابند بین الاقوامی وعدے ہیں جن کی ہر صورت میں، ان کی روح اور متن کے مطابق، غیر مشروط پاسداری کی جانی چاہیے۔

دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ناسور پورے خطے کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ ایس سی او کے علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے کی صدارت کے دوران پاکستان نے علاقائی انسدادِ دہشت گردی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اڑھائی دہائیوں کے دوران پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور 150 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کیے ہیں۔ یہ قربانیاں صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ ایک محفوظ اور پُرامن خطے کے لیے بھی دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم جب تک دہشت گرد افغان سرزمین کو پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کے لیے استعمال کرتے رہیں گے، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکے گا۔

علاقائی روابط، سی پیک اور ایس سی او 2035 حکمت عملی:

علاقائی روابط کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او خطے میں 3 ارب سے زائد افراد آباد ہیں اور یہ خطہ وافر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہ غیر معمولی صلاحیت ایس سی او رہنماؤں پر اپنے عوام کے بہتر مستقبل کی تشکیل کی غیر معمولی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی رابطہ سازی اب محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک تزویراتی ضرورت بن چکی ہے۔ حالیہ بحران نے ثابت کیا ہے کہ متنوع نقل و حمل کے نیٹ ورکس، محفوظ توانائی راہداریاں اور مضبوط سپلائی چینز اجتماعی سلامتی کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے ملانے کے لیے اہم گیٹ وے کا کردار ادا کررہی ہے۔ پاکستان بین العلاقائی ریلوے منصوبوں، سڑکوں کے رابطوں اور علاقائی توانائی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔ انہوں نے تمام ممالک سے ‘ایس سی او ترقیاتی حکمتِ عملی 2035’ پر عمل درآمد یقینی بنانے کی اپیل کی اور ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کو اس سلسلے میں اہم قدم قرار دیا۔ غربت میں کمی سے متعلق ورکنگ گروپ کے مستقل چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

پاکستان کا صدارتی ایکشن پلان، اے آئی فریم ورک اور گلوبل ریزیلینس ایکسپو:

پاکستان کی آئندہ ایس سی او چیئرمین شپ کے حوالے سے وزیراعظم نے ایک جامع ‘ایکشن پلان’ تجویز کیا، جس میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، توانائی، غربت میں کمی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، صحت، ثقافت اور کھیلوں کے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ذمہ دارانہ اور جامع ترقی، ڈیجیٹل خودمختاری اور تحقیق و جدت کے فروغ کے لیے ’ایس سی او سوورین اے آئی انفراسٹرکچر اینڈ گورننس فریم ورک‘ کے قیام کی پیشکش کی تاکہ کوئی رکن ملک پیچھے نہ رہ جائے۔ اس کے علاوہ، خطے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پیشگی انتباہ کو مؤثر بنانے کے لیے انہوں نے 2026-2027 کے دوران اسلام آباد میں ’گلوبل ریزیلینس ایکسپو‘ کے انعقاد کی تجویز بھی دی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان کی چیئرمین شپ کا مرکزی موضوع ’وژن کو عمل میں بدلنا: روابط، جدت طرازی اور مشترکہ خوشحالی‘ ہوگا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے ایک دانشمندانہ کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے بہت سے چشمے مل کر ایک عظیم دریا بناتے ہیں، اسی طرح جب ایس سی او ممالک اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہیں تو ترقی کے امکانات کی کوئی حد نہیں رہتی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ غیر یقینی کے اس دور میں تاریخ ایس سی او کو ایسی تنظیم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے تصادم پر تعاون، تقسیم پر مکالمے، رکاوٹوں پر پل اور خوف پر امید کو ترجیح دی اور محض بدلتی ہوئی دنیا کا مشاہدہ نہیں کیا بلکہ اسے تشکیل دینے میں اپنا فعال کردار ادا کیا۔ بعد ازاں، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط بھی کیے۔

Pakistan SCO Summit 2026