بیلجیئم کے شاہی خاندان میں ایک غیر معمولی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں سابق کار سیلز مین 26 سالہ کلیمنٹ وینڈن کرک ہوو کو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے نسبت ثابت ہونے کے بعد شہزادہ لورینٹ نے قانونی طور پر اپنا بیٹا اور وارث تسلیم کرلیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق کلیمنٹ کو تقریباً چھ ماہ قبل ایک سادہ تقریب کے دوران قانونی طور پر شہزادہ لورینٹ کی اولاد تسلیم کیا گیا تھا، تاہم اس معاملے کی تفصیلات اب منظرعام پر آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شہزادہ لورینٹ نے بیلجیئم کی سول رجسٹری میں کلیمنٹ کی ولدیت تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنا قانونی بیٹا قرار دیا۔ کلیمنٹ کی والدہ اور شہزادہ لورینٹ کے درمیان 1990 کی دہائی میں تعلقات قائم ہوئے تھے۔ دونوں کی ملاقات پیرس میں منعقد ہونے والے ایک فیشن شو کے دوران ہوئی تھی، تاہم ان کا تعلق زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکا۔
بعد ازاں 2003 میں شہزادہ لورینٹ نے شہزادی کلیئر سے شادی کرلی۔ اس شادی سے ان کے تین بچے، شہزادی لوئیز، شہزادہ نکولس اور شہزادہ ایمرک ہیں۔
کلیمنٹ کے مطابق انہیں اپنی اصل ولدیت کے بارے میں اس وقت علم ہوا جب وہ 16 برس کے تھے۔ ان کی والدہ نے انہیں بتایا تھا کہ شہزادہ لورینٹ ان کے حقیقی والد ہیں۔
بیلجیئم کے ایک ٹی وی نیٹ ورک کو گزشتہ برس ستمبر میں دیے گئے ایک انٹرویو میں کلیمنٹ نے بتایا کہ والدہ کی جانب سے حقیقت بتائے جانے کے تقریباً 4 سال بعد انہوں نے اپنے والد سے رابطہ کیا۔ اس رابطے کے بعد شہزادہ لورینٹ نے ان کی نسبت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی تجویز دی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہاکی ورلڈکپ : پاکستان کی 16سال بعد پہلی کامیابی، جاپان کو شکست
ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج نے بالآخر ثابت کردیا کہ کلیمنٹ شہزادہ لورینٹ کے حقیقی بیٹے ہیں، جس کے بعد انہیں قانونی طور پر بھی شہزادہ لورینٹ کی اولاد تسلیم کرلیا گیا۔
اگرچہ کلیمنٹ کو قانونی طور پر شہزادہ لورینٹ کا بیٹا قرار دیا گیا ہے، تاہم وہ شاہی خاندان کے سرکاری فرائض انجام نہیں دیں گے۔ انہیں شاہی وظیفہ بھی نہیں ملے گا اور نہ ہی وہ شاہی خاندان کی جانب سے سرکاری یا عوامی تقریبات میں نمائندگی کریں گے۔
البتہ قانونی طور پر انہیں اپنے والد کی نجی جائیداد میں اپنے سوتیلے بہن بھائیوں، شہزادی لوئیز، شہزادہ نکولس اور شہزادہ ایمرک کے برابر وراثتی حقوق حاصل ہوں گے۔
بیلجیئم کے شاہی خاندان میں غیر ازدواجی اولاد کو قانونی طور پر تسلیم کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل شہزادہ لورینٹ کے والد اور سابق بادشاہ البرٹ دوم بھی اسی نوعیت کے ایک معاملے کا سامنا کرچکے ہیں۔
البرٹ دوم نے 2013 میں بادشاہت سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ بعد ازاں ایک طویل قانونی تنازع کے بعد 2020 میں انہوں نے اعتراف کیا کہ غیر ازدواجی تعلق کے نتیجے میں ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی اور اسے قانونی طور پر اپنی اولاد تسلیم کرلیا۔
البرٹ دوم کی بیٹی ڈیلفین بوئل ایک معروف فنکارہ ہیں۔ طویل عدالتی جنگ کے بعد انہیں بیلجیئم کے شاہی خاندان میں شہزادی کا خطاب حاصل ہوا اور وہ اب ڈیلفین ڈی سیکس کوبورگ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مدھیہ پردیش: اجتماعی شادی سے دلہنیں غائب، دلہوں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا
دوسری جانب شہزادہ لورینٹ کے بیٹے کے طور پر قانونی شناخت حاصل کرنے کے باوجود کلیمنٹ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنا موجودہ خاندانی نام تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اپنی موجودہ شناخت اور خاندانی نام برقرار رکھنے کے خواہش مند ہیں۔




