قومی اقلیتی دن پر صدر مملکت اور وزیراعظم کا اہم پیغام: اقلیتی برادریوں کی خدمات کو زبردست خراج تحسین

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے قومی اقلیتی دن کے موقع پر تمام پاکستانیوں، بالخصوص اقلیتی برادریوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ملکی تعمیر و ترقی میں ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ رہنماؤں کی جانب سے ملکی ترقی اور سماجی ہم آہنگی میں اقلیتوں کے لازمی کردار کی تعریف کی گئی ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا وژن آج بھی ریاست کی روح اور بنیادی تشخص کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر شہری کو مذہب، ذات اور عقیدے کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر مساوی حقوق حاصل ہیں۔

صدر مملکت کا آئینی اصولوں اور اتحاد پر زور:

صدر مملکت نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ مذہبی، ثقافتی اور روایتی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی پرچم تلے متحد ہونا پاکستان کی حقیقی طاقت ہے، جبکہ اقلیتی برادریوں کی قومی خدمات، حب الوطنی اور ملکی ترقی میں ان کا کردار قابل فخر ہے۔ آصف علی زرداری کے مطابق آئینی اصولوں کی پاسداری ایک مضبوط اور منصفانہ معاشرے کی تشکیل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر شہری کے عقیدے، شناخت اور انسانی وقار کا احترام یقینی ہو۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انارکی و بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے، نئی حکومت بات چیت کرنیوالوں کو موقع فراہم کریگی، شہبازشریف

انہوں نے مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں، میڈیا، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ رواداری، باہمی احترام اور ہم آہنگی کے فروغ میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑ کر جائیں جو امن، ترقی، استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر قائم ہو۔

اقلیتی برادریاں قومی تشخص کا لازمی حصہ ہیں: وزیراعظم:

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ہر سال 11 اگست کو قومی اقلیتی دن کے طور پر مناتا ہے تاکہ اقلیتی برادریوں کی قومی دھارے میں شمولیت اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو اجاگر کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقلیتی برادریاں پاکستان کے قومی تشخص کا لازمی حصہ ہیں اور ملک کے متنوع سماجی و ثقافتی منظرنامے کی حقیقی خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہیں۔

شہباز شریف نے یاد دہانی کرائی کہ 11 اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے اقلیتوں کے حقوق کی واضح ضمانت دی تھی۔ ان کا یہ وژن آج بھی پاکستان کے سماجی نظم، طرز حکمرانی اور قومی اقدار کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ وزیراعظم کے مطابق مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ملک کی ترقی میں اقتصادی، تعلیمی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آئینی ضمانت اور اقلیتی حقوق کے اہم اقدامات:

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان اقلیتی برادریوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیتا ہے، جبکہ قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق ایکٹ 2025 کا نفاذ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قومی پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی پالیسی 2025 متعارف کرائی گئی ہے۔

شہباز شریف کے مطابق انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان 2026 میں بھی اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں، متعلقہ ادارے اور سول سوسائٹی مل کر ہر شہری کے حقوق کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی اور ایک پرامن، برداشت کرنے والے اور متحد معاشرے کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔