پاسپورٹ

پاسپورٹ فیس کی آسان ادائیگی کیلیے اہم فیصلہ کر لیا گیا

پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس میں کیش لیس اور مکمل ڈیجیٹل نظام نافذ کرنے کا بڑا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس جدید اقدام کا مقصد شہریوں کو بینکوں کی طویل قطاروں سے نجات دلانا اور دفاتر میں خدمات کے معیار کو تیز، شفاف اور باوقار بنانا ہے۔

ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کی زیرِ صدارت فیس کے کیش لیس نظام پر ایک اہم اور اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں نیشنل بینک، جاز کیش، ایزی پیسہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے خصوصی شرکت کی۔ اس اہم اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان اور وزیر داخلہ کے وژن کے مطابق پاسپورٹ فیس کی ادائیگی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاسپورٹ گم ہونے پر ای ٹریول دستاویزات کیسے حاصل کی جا سکتی ہیں؟

محمد علی رندھاوا نے شہریوں کی سہولت کے لیے بینکوں کی قطاروں سے نجات دینے کی خاطر جدید ادائیگی کا نظام متعارف کروانے کی سخت ہدایت کی، جبکہ اجلاس میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس کیش لیس نظام کے جلد از جلد نفاذ کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ اس سے قبل 9 مئی 2026 کو بھی شہریوں کے لیے پاسپورٹ دفاتر میں خدمات کی فراہمی اور معیار کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ عوام کو تیز ترین اور باوقار سہولیات میسر آ سکیں۔

ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا نے ریجنل پاسپورٹ آفس جی-10 اسلام آباد کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں شہریوں کو فراہم کی جانے والی مختلف سہولیات کا جائزہ لیا۔ ترجمان کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق دورے کے دوران انہوں نے وہاں موجود شہریوں سے براہِ راست ملاقاتیں کیں، ان کے مسائل اور شکایات کو خود تفصیل سے سنا اور متعلقہ افسران کو فوری طور پر ان کے حل کے احکامات جاری کیے۔

مزید پڑھیں: دنیا کے طاقتور پاسپورٹس کی نئی فہرست جاری؛ پاکستانی پاسپورٹ چوتھے نمبر پر برقرار

انہوں نے ریجنل آفس میں نافذ کیے گئے کیش لیس نظام کی مانیٹرنگ بھی کی اور اس جدید نظام کے مؤثر نفاذ پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف نظام میں شفافیت بڑھ رہی ہے بلکہ شہریوں کو بھی بہترین سہولت مل رہی ہے۔ ڈی جی امیگریشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام پاسپورٹ دفاتر میں خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کو تیز، شفاف اور باوقار سہولیات کی فراہمی ممکن ہو۔