دنیا کے مقبول ترین میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ایک انقلابی فیچر ‘انکوگینٹو چیٹس’ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو اب تک اس سروس میں دستیاب نہیں تھا۔
واٹس ایپ کی جانب سے میسجنگ سروس میں ایک ایسے فیچر کا اضافہ کیا گیا ہے جو صارفین کو گوگل کروم کے انکوگینٹو موڈ جیسا تجربہ فراہم کرے گا۔ ‘انکوگینٹو چیٹس ود میٹا اے آئی’ نامی اس فیچر کے ذریعے صارفین اب میٹا کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹ سے مکمل طور پر نجی گفتگو کر سکیں گے۔ اس فیچر کا بنیادی مقصد صارف کے ڈیٹا کو اس قدر محفوظ بنانا ہے کہ خود میٹا کمپنی بھی ان چیٹس تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور تھریڈز صارفین کیلیے بڑی خوشخبری
کمپنی کے مطابق میٹا اے آئی سے ہونے والی انکوگینٹو چیٹس کو ایک انتہائی محفوظ ماحول میں پراسیس کیا جائے گا۔ اس فیچر کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تمام پیغامات بائی ڈیفالٹ ‘ڈس اپیئرنگ’ (Disappearing) ہوں گے، یعنی بات چیت ختم ہوتے ہی پیغامات خودکار طور پر غائب ہو جائیں گے۔ میٹا نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت صرف میٹا اے آئی کے لیے مخصوص ہے اور دیگر کمپنیوں کے تیار کردہ اے آئی چیٹ بوٹس پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ تھرڈ پارٹی بوٹس بنانے والی کمپنیاں اب بھی صارفین کے سوالات دیکھ سکیں گی۔
مزید پڑھیں: ٹویوٹا نے یارس کی قیمت میں یکمشت4 لاکھ روپے کمی کر دی
واٹس ایپ نے مستقبل کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس فیچر کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور بہت جلد یہ تمام صارفین کو دستیاب ہوگا۔ اس کے اگلے مرحلے میں ‘سائیڈ چیٹ پروٹیکٹڈ بائی پرائیویٹ پراسیسنگ’ نامی فیچر بھی متعارف کرایا جائے گا۔ اس نئے فیچر کے تحت مرکزی بات چیت کو متاثر کیے بغیر ہر انفرادی چیٹ کے لیے انکوگینٹو موڈ استعمال کرنا ممکن ہوگا، جس سے واٹس ایپ پر صارف کا ڈیٹا پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو جائے گا۔




