آزادکشمیر میں مالیاتی بحران: اربوں کے ترقیاتی منصوبے کھٹائی میں پڑ گئے

مظفرآباد(مسعودعباسی): آزادکشمیر میں نئے تعلیمی پیکیج، فی حلقہ 30 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر اور محکمہ صحت عامہ کے لیے مشینری کی خریداری کے منصوبوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ محکمہ مالیات نے ان تمام منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی سے معذرت کر لی ہے، جس کے بعد ان اہم منصوبوں کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں جب کہ پاکستان میں مجموعی طور پر خلیجی جنگ کی وجہ سے مالیاتی ایمرجنسی نافذ ہے، آزادکشمیر حکومت کی جانب سے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے حکومت کے آخری ایام میں تعلیمی پیکیج، 30 کلو میٹر فی حلقہ شاہرات اور تین ارب روپے مالیت کے محکمہ صحت میں مشینری کی خریداری جیسے معاملات سامنے لائے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے رقم کی دستیابی ریاست میں ایک نئے مالیاتی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے حکومت نے اہم اقدامات شروع کر دئیے

آزادکشمیر حکومت نے تعلیمی پیکیج کے لیے طویل مشاورت کی ہے اور اپنے وزراء سے ان کے حلقہ انتخاب میں نئے تعلیمی اداروں کے قیام، اپ گریڈیشن سمیت نئی اسامیوں کی تخلیق کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ یہ معاملہ ابھی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جانا ہے۔ اس سے پہلے حکومت نے بلاک پرویژن کے تحت 30 کلو میٹر فی حلقہ سڑکوں کی منظوری دے رکھی ہے جن کے ٹینڈر جاری ہو رہے ہیں، جب کہ محکمہ صحت عامہ میں تین ارب روپے مالیت کی مشینری کی خریداری کا عمل بھی اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔

فنانس ڈویژن نے آزادکشمیر میں جون 2026ء تک ہر طرح کی خریداریوں، نئے منصوبہ جات کی منظوری، اور نئی اسامیوں کی تخلیق پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ موجودہ صورتحال میں تعلیمی پیکیج کی منظوری، 30 کلو میٹر سڑکوں کے ٹینڈرز اور ورک آرڈر کا اجراء سمیت محکمہ صحت میں مشینری کی خریداری کا معاملہ کمزور مالیاتی پوزیشن کے باعث غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ تمام صورتحال موجودہ حکومت کے مستقبل اور آئندہ عام انتخابات میں حکمران جماعت کی کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

مزید پڑھیں: باغ میونسپل کارپوریشن کی ہڑتال: میئر عبدالقیوم بیگ کی وزیر حکومت پر کڑی تنقید

Scroll to Top