لاہور قلندرز کے فاسٹ بولر حارث رؤف کا کہنا ہے کہ کسی ایک میچ میں خراب کارکردگی کی بنیاد پر کسی بولر کو ناکام قرار دینا درست نہیں ہمارے ہاں اکثر لوگ فوراً یہ کہہ دیتے ہیں کہ کھلاڑی اب ختم ہو چکا ہے ۔
میڈیا سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ ہر شخص کی اپنی رائے ہوتی ہے تاہم وہ اور ان کی ٹیم خود پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور اسی یقین کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ گراؤنڈز کی پچز اور چھوٹی باؤنڈریز کی وجہ سے زیادہ رنز بننا معمول بن چکا ہے، اس لیے ایسے میچز میں بولرز کے خلاف رنز بننا ایک عام بات ہے ۔
حارث رؤف نے وضاحت کی کہ کسی بھی میچ میں کچھ بولرز کم رنز دیتے ہیں جبکہ دیگر کو زیادہ رنز پڑ سکتے ہیں لیکن اگر مجموعی طور پر ٹیم حریف کو متوقع اسکور سے 15 سے 20 رنز کم پر روک لے تو اسے بولرز کی اچھی کارکردگی سمجھا جانا چاہیے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 11، آج ملتان سلطان اور لاہور قلندرز کی ٹیمیں مدمقابل آئیں گی
انہوں نے اپنی باؤلنگ میں بہتری کے حوالے سے کہا کہ لیگ کے ابتدائی مرحلے میں وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ڈیتھ اوورز میں کہاں بہتری کی ضرورت ہے، اس پر توجہ دے رہے ہیں ۔
تنقید کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اسے مثبت انداز میں لیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی کھلاڑی پر زیادہ تنقید ہو رہی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ لوگ اس سے بڑی توقعات رکھتے ہیں اور جب وہ ان توقعات پر پورا نہیں اترتا تو باتیں ہوتی ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ شائقین جذباتی ہوتے ہیں اور کھلاڑی بھی بعض اوقات اسی طرح جذباتی ہو جاتے ہیں، تاہم کوشش یہی ہوتی ہے کہ مداحوں کی اُمیدوں پر پورا اترا جائے ۔
حارث رؤف نے یہ بھی کہا کہ کسی ایک ٹیم کیساتھ طویل عرصے تک کھیلنا ایک کھلاڑی کیلئے خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے۔ وہ لاہور قلندرز کیساتھ اپنا آٹھواں سیزن کھیل رہے ہیں اور ٹیم کی جانب سے ملنے والا اعتماد ان کیلئے بہت اہم ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آئی پی ایل چھوڑ کر پی ایس ایل کیوں جوائن کی؟ ایڈم زمپا نے بھارتی لیگ کے پول کھول دیے
ان کا مزیدکہنا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا اور انہیں سیکھنے کا وقت فراہم کرنا بھی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ۔




