بھارتی اخبار ‘دی ہندو’ نے عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور کامیاب عسکری سفارتکاری کا اعتراف کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں ہونے والی اہم پیشرفت اور امریکی صدر کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی پذیرائی پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئی ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔
خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون اور سیکیورٹی وابستگی:
بھارتی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے حالیہ دفاعی معاہدوں اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مسلسل بہتر ہوتے تعلقات نے پاکستان کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ خلیج کے ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی یہ سیکیورٹی وابستگی نہ صرف معاشی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ یہ پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو مزید مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج: کیا آپ 13 ہزار روپے کے اہل ہیں؟ اپنی اہلیت چیک کرنے کا طریقہ جانیں
چین اور ترکی کے ساتھ مشترکہ منصوبے:
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین اور ترکی کے ساتھ شروع کیے گئے مشترکہ دفاعی منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی دفاعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ ان کامیاب اشتراکِ عمل کی بدولت پاکستان کی سالانہ دفاعی پیداوار اب کئی ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ تعاون پاکستان کو جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی میں خود کفیل بنانے اور اسے عالمی منڈی میں ایک بڑے برآمد کنندہ کے طور پر متعارف کروانے میں مدد دے رہا ہے۔
عالمی منڈی میں پاکستانی دفاعی صنعت کا بڑھتا ہوا اثر:
رپورٹ کے مطابق پاکستان اب صرف روایتی اتحادیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی بڑے دفاعی سودوں کے لیے تیار ہے۔ اخبار کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اس وقت آذربائیجان، میانمار، نائیجیریا اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھی اہم دفاعی معاہدوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ان نئے معاہدوں سے پاکستان کی عسکری برآمدات اور ملکی معیشت کو مزید استحکام ملنے کی توقع ہے۔
عسکری سفارتکاری کی عالمی کامیابی:
بھارتی جریدے کا یہ اعتراف پاکستان کی عسکری قیادت کی کامیاب سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے جس طرح عالمی طاقتوں اور برادر اسلامی ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو استوار کیا ہے، اس کے مثبت اثرات اب دفاعی پیداوار اور برآمدات کی صورت میں واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔




