تہران : ایران میں سپریم لیڈر کے منصب سے متعلق پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد آئین کے مطابق عبوری قیادت نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں ۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ عبوری لیڈرشپ کونسل ملک میں انتظامی تسلسل برقرار رکھنے کیلئے تشکیل دی گئی ہے اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ریاستی امور کی نگرانی کرے گی ۔
آئینی تقاضوں کے تحت قائم کی گئی اس کونسل میں صدرِ مملکت، عدلیہ کے سربراہ اور شوریٰ نگہبان (گارڈین کونسل) کا ایک رکن شامل ہے ۔ ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق اگر سپریم لیڈر کا عہدہ خالی ہو جائے یا وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہ رہیں تو یہ کونسل عارضی طور پر اختیارات سنبھالتی ہے تاکہ حکومتی ڈھانچے میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آپریشن غضب للحق: پاک فوج کی بھرپور کارروائی، افغان طالبان کی اہم مرکز پوسٹ کا کنٹرول سنبھال لیا
ایرانی مجلسِ خبرگان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مجلسِ خبرگان کی آئینی ذمہ داری ہے۔ یہ ادارہ منتخب علمائے کرام پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے سپریم لیڈر کے تقرر اور ضرورت پڑنے پر معزولی کا اختیار حاصل ہے۔ ترجمان کے مطابق جیسے ہی عہدہ باضابطہ طور پر خالی قرار دیا جاتا ہے، انتخاب کا عمل شروع کر دیا جاتا ہے ۔
سرکاری ذرائع اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ماضی میں قیادت کی ممکنہ منتقلی سے متعلق بعض شخصیات کے ناموں پر مشاورت کی تھی، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ۔ موجودہ صورتحال میں ایرانی قیادت داخلی استحکام، ریاستی نظم و نسق اور ادارہ جاتی تسلسل کو اولین ترجیح دے رہی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت: شہری صبر و تحمل اختیار کریں اور بدامنی سے گریز کریں،علامہ طاہر اشرفی
تجزیہ کاروں کے مطابق مجلسِ خبرگان کا آئندہ اجلاس اس معاملے میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے تناظر میں عالمی برادری بھی ایران کی داخلی سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے ۔




