انٹلیاں کے نوجوانوں نے برفباری میں لاپتہ افراد کو بحفاظت بازیاب کر لیا

ریشیاں سے لیپا کی جانب سفر کے دوران گاؤں انٹلیاں سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد شدید برف باری کے باعث لاپتہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ علاقے میں موسم کی شدت، برفانی حالات اور راستوں کی بندش نے صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیا تھا، جس کے باعث مقامی سطح پر فوری اور منظم اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی۔

لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے گاؤں انٹلیاں کے 30 سے 35 نوجوانوں پر مشتمل ایک رضاکار ٹیم نے عشاء کے بعد رات گئے فوری طور پر روانگی اختیار کی۔ یہ اقدام وقت کی نزاکت اور انسانی جانوں کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا، کیونکہ شدید برف باری کے باعث حالات مسلسل مشکل ہوتے جا رہے تھے اور ہر گزرتا لمحہ اہمیت اختیار کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جھوٹے مقدمے میں یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی بھارتی تیاریاں، آج اہم سماعت

ریسکیو آپریشن کے دوران رضاکار نوجوانوں کو منفی 15 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت، شدید برف باری، برفانی تودوں کے خطرات، سنگلاخ پہاڑی راستوں اور گھنے جنگلات جیسے انتہائی دشوار حالات کا سامنا رہا۔ ان مشکل ترین موسمی اور جغرافیائی حالات میں نوجوانوں نے پوری رات مسلسل تلاش جاری رکھی، جہاں قدم قدم پر خطرات موجود تھے اور معمولی لغزش بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔

کئی گھنٹوں کی انتھک کوششوں کے بعد صبح تقریباً چار بجے کے قریب شیر گلی ٹاپ کے مقام پر لاپتہ افراد کو بحفاظت تلاش کر لیا گیا۔ اس کامیاب تلاش کے بعد تمام افراد کو فوری طور پر لیپا کی جانب روانہ کر دیا گیا، جہاں وہ اس وقت خیریت سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کو ’’ بورڈ آف پیس‘‘میں شامل کیا جائے،مشعال ملک

دس ہزار فٹ کی بلندی پر اس قدر سخت اور خطرناک حالات میں انجام دیا گیا یہ ریسکیو آپریشن کسی بڑے معرکے سے کم نہیں تھا۔ تاہم گاؤں انٹلیاں کے نوجوانوں نے جرات، اتحاد، باہمی تعاون اور بروقت اقدام کے ذریعے اس مشکل مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا اور ناممکن کو ممکن بنا دکھایا۔ یہ کارروائی مقامی نوجوانوں کے حوصلے، اجتماعی شعور اور انسانی ہمدردی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئی ہے۔

Scroll to Top