اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کا دورہ کیا اور یہاں انہوں نے پاکستان میں پاسپورٹس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سیکوئر ہائبریڈ انٹیلیجنس فار نالج بینڈ ریسپانس انالیٹکس (شکرا) کے جدید مانیٹرنگ سسٹم کا باضابطہ افتتاح کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ کو شکرا سسٹم کے تمام پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس میں 24/7 مانیٹرنگ روم اور کال سنٹر فعال کر دیے گئے ہیں، اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وکیل کا جعلی پاسپورٹ استعمال ،جعلساز بھارت پہنچ گیا،سینیٹ کمیٹی میں انکشاف
محسن نقوی نے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اس مانیٹرنگ سسٹم کے تعارف پر ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پاسپورٹ سسٹم اب دنیا کے بہترین ممالک کے نظام کے مطابق ڈھال دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے نظام کے تحت پاکستان اور دنیا بھر میں پاسپورٹ درخواستوں اور ڈیلیوری کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ ممکن ہوگی اور پاسپورٹ اپلائی ہونے سے لے کر ڈیلیوری تک ہر مرحلے کی نگرانی کی جا سکے گی۔ حکومت کا مقصد شہریوں کو عالمی معیار کی تیز رفتار اور محفوظ خدمات فراہم کرنا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مانیٹرنگ کے جدید نظام سے محکمہ پاسپورٹس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی، اور پاکستانی پاسپورٹ کے سکیورٹی فیچرز کو آئی سی اے او سٹینڈرڈز کے مطابق بنایا گیا ہے۔ جدید آٹومیٹک جرمن مشینوں کے استعمال سے محکمے کی استعداد کار میں اضافہ ہوا ہے، اور پاسپورٹ پرنٹنگ کے عمل میں انسانی مداخلت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
اس دوران وزیر داخلہ نے ای مانیٹرنگ روم، کال سنٹر، فرانزک لیب اور جدید پروڈکشن یونٹ کا بھی دورہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انٹیگریٹڈ ڈیش بورڈ کے ذریعے روزمرہ آپریشنز اور تمام عملے کی کارکردگی کی مانیٹرنگ اور ایویلیوایشن کی جائے گی۔ نئے نظام کے تحت پاسپورٹ دفاتر میں رش کی خودکار نشاندہی، بیک لاگ اور مشینری سٹیٹس کی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ: 126 سے 98 ویں نمبر تک پہنچ گیا
اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے اور انہوں نے وزیر داخلہ کے اقدامات کی مکمل حمایت کی۔




