سماہنی / بھمبر(کشمیر ڈیجیٹل نیوز)سکول ٹیچرز آرگنائزیشن آزاد کشمیر کے مرکزی سینئر نائب صدر محمد آصف شاہد، نامزد تحصیل صدر متحدہ ٹیچرز پینل قاری عتیق الرحمٰن اور تحصیل کوآرڈینیٹر متحدہ ٹیچرز پینل سماہنی نصیر احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حالیہ تبادلہ جات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عین تعلیمی سیشن کے عروج پر اساتذہ کی ری پوزیشننگ نہ صرف تعلیمی نظام کے آپریشنل فلو کو متاثر کرتی ہے بلکہ طلبہ کے لرننگ آؤٹ کمز پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے ۔
انہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اساتذہ تبادلہ جات کو سرکاری سروس کا حصہ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ یونیفارم ٹرانسفر پالیسی کی حمایت کرتے آئے ہیں، تاہم پالیسی کا اطلاق سیزنل سینسٹیویٹی اور تعلیمی کیلنڈر کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے ۔
اساتذہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دنیا تیزی سے تعلیمی جدت کی طرف بڑھ رہی ہے مگر ہمارے خطے میں بدقسمتی سے پالیسی بیانیہ اب بھی تبادلہ جاتی سیاست کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے جو ایجوکیشنل گورننس کے بنیادی مقاصد سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دھیرکوٹ، کمرے میں کوئلے کی گیس بھرنے سے 12 سالہ بچہ جاں بحق، 3 افراد بے ہوش
انہوں نے خواتین اساتذہ کی دور دراز علاقوں میں تعیناتی کو سوشل ایکوئٹی اور ویلفیئر مینجمنٹ کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی پوسٹنگ نہ صرف کلاس روم کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ورک لائف بیلنس پر بھی غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے ۔
اساتذہ رہنماؤں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر، وزیر تعلیم اور سیکریٹری تعلیم سے مطالبہ کیا کہ موجودہ تبادلہ جات فوری طور پر معطل کیے جائیں، غیر ضروری ایڈجسٹمنٹس کو تعلیمی سیشن کے اختتام تک مؤخر کیا جائے اور تمام فیصلے یونیفارم ٹرانسفر پالیسی اور میرٹ بیسڈ فریم ورک کے تحت کیے جائیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:این ای او سی کا شمالی علاقوں میں برفباری اور برفانی تودوں کا الرٹ جاری
آخر میں رہنماؤں نے زور دیا کہ اساتذہ تعلیمی نظام کی بنیادی طاقت ہیں، اس لیے ان کی تعیناتی و پوسٹنگ کے فیصلے سیاسی بنیادوں کے بجائے وژن، حکمت اور ڈیٹا ڈرِون اپروچ کے تحت کیے جانے چاہئیں ۔




