پاکستان کو بنگلہ دیش کا ساتھ دینا چاہیے تھا، سابق قومی کپتان راشد لطیف

کراچی (کشمیر ڈیجیٹل نیوز) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کے معاملے پر واضح اور مضبوط مؤقف اپنانا چاہیے تھا کیونکہ اب بہت ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے کھیل اور سیاست کو مسلسل ملایا جا رہا ہے اور اس رویے کو مزید نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے ۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے راشد لطیف نے کہا کہ بھارتی رویہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ اب بنگلہ دیشی کرکٹرز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ د یشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنے کے مطالبات کیے گئے، جس میں ایک بی جے پی ر ہنما پیش پیش رہا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے اخراج،آئی سی سی کا فیصلہ قبول کرتے ہیں،بنگلہ دیش

راشد لطیف کے مطابق مستفیض الرحمان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اور یہاں تک کہا گیا کہ انہیں قتل کرنے والے کے لیے نقد انعام رکھا جائے گا ۔ سابق قومی کپتان نے الزام عائد کیا کہ ان تمام واقعات کے پیچھے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کا اثر و رسوخ ہے، جن کے بیٹے جے شاہ اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے صدر ہیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سابق کرکٹر عبدالقادر کا بیٹا سلیمان قادر جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار

راشد لطیف کا کہنا تھا کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود آئی سی سی اور دیگر رکن ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ مالی مفادات اور بھارت کی کرکٹ مارکیٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنے کی باتیں صرف دعو ؤں تک محدود ہیں ۔ راشد لطیف نے زور د ے کر کہا کہ اگر پاکستان کسی مرحلے پر اصولی اور جراتمندانہ فیصلہ کرتا ہے تو اس کے اثرات ضرور مرتب ہوں گے ۔

Scroll to Top