ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 25 نومبر کو سینیئر صحافیوں کے ساتھ ایک اہم نشست میں ملک کی مجموعی سلامتی، انسدادِ دہشتگردی اقدامات، بارڈر مینجمنٹ کے چیلنجز اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس دوران افغانستان کے ساتھ تعلقات، بھارت کے فوجی بیانات، سوشل میڈیا پروپیگنڈا اور دہشتگردی کے خلاف حالیہ آپریشنز جیسے اہم موضوعات بھی زیرِ بحث آئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے سیکیورٹی اداروں کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ پاک افغان سرحد پیچیدہ اور پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔ صرف خیبر پختونخوا میں یہ سرحد 1,229 کلومیٹر طویل ہے، جس پر 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں، اور کئی مقامات پر پوسٹس کے درمیان فاصلہ 20–25 کلومیٹر تک ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بارڈر فینس تب تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اسے آبزرویشن اور فائر کور کی مدد حاصل نہ ہو، اور ہر دو سے پانچ کلومیٹر کے بعد قلعے اور مستقل ڈرون سرویلنس کے لیے بھاری وسائل درکار ہوں گے۔
افغان طالبان پاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کو مکمل سہولت فراہم کرتے ہیں، جبکہ سرحد سے متصل افغان علاقوں میں انتظامی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے گورننس کے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ افغان بارڈر ایریاز میں ایک مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ موجود ہے، جسے فتنہ الخوارج کی جانب سے سہولت حاصل ہے۔ غیر قانونی تجارت اور نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں، جنہیں خودکش حملوں میں بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم یونیورسٹی:ڈی جی آئی ایس پی آر کی طلبہ و اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست
افغانستان سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے: “افغان طالبان دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں۔” ان کے مطابق افغانستان میں اب بھی القاعدہ، داعش اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے مراکز فعال ہیں، جنہیں اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے اور یہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان نے افغان قیادت کے سامنے تمام شواہد رکھ دیے ہیں جنہیں وہ رد نہیں کر سکتے۔
فتنہ الخوارج کے بارے میں افغان طالبان کے دعوے کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیر منطقی قرار دیا کہ یہ عناصر پاکستانی شہری ہیں اور مہمان کے طور پر افغانستان میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پاکستانی ہیں تو انہیں پاکستان واپس کر کے قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔
انہوں نے ایس آئی جی اے آر رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالر کے فوجی ساز و سامان افغانستان میں چھوڑ گئیں، جس کا بڑا حصہ دہشتگرد گروہوں کے ہاتھ لگا۔ طالبان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ 2021 کے بعد افغانستان میں ریاست اور حکومت کے قیام کا عمل رک گیا اور عسکریت پسند گروہوں کو کھلی گنجائش مل گئی۔ کابل کا موجودہ سیٹ اپ افغان عوام کی نمائندگی نہیں کرتا اور ملک کی 50 فیصد خواتین کی بھی کوئی نمائندگی موجود نہیں۔
افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2024 میں 366,704 اور 2025 میں 971,604 افراد واپس بھیجے گئے، جبکہ صرف نومبر میں 239,574 افغان مہاجرین کی واپسی عمل میں آئی۔
بھارت کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوستان میں خود فریبی پر مبنی قیادت کی اجارہ داری ہے۔ انہوں نے انڈین آرمی چیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سندور کے دوران دکھایا گیا ٹریلر سات جہازوں کے نقصان اور 26 تنصیبات پر حملے کی عکاسی کرتا تو یہ بھارت کے لیے ایک ’ہارر‘ فلم ہوتی۔
سوشل میڈیا پروپیگنڈا پر انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ زیادہ تر بیرونِ ملک سے چلنے والے اکاؤنٹس کے ذریعے بنایا جا رہا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف سیاسی اتفاق رائے کے حوالے سے کہا گیا کہ تمام حکومتیں اور سیاسی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہیں۔ بلوچستان میں اس پلان کے تحت ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر اسٹیرنگ، مانیٹرنگ اور عملدرآمد کمیٹیاں فعال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا فیصلہ: طلاق صرف 90 روز بعد مؤثر ہوگی
انہوں نے ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ کو دہشتگردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا اور بتایا کہ اسمگلنگ کی مقدار 20.5 ملین لیٹر یومیہ سے کم ہو کر 2.7 ملین لیٹر یومیہ رہ گئی، جس کا بڑا حصہ بی ایل اے اور بی وائی سی گروہوں کو جاتا تھا۔ بلوچستان میں سیکورٹی فورسز اور صوبائی حکومت عوامی انگیجمنٹ کے ذریعے امن کے فروغ کی کوششیں تیز کر چکی ہیں، جہاں 140 روزانہ اور 4,000 ماہانہ انگیجمنٹس کی جا رہی ہیں۔
اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا: “پاکستان کے لیے دہشتگردوں کی کسی بھی قسم کی تفریق قابل قبول نہیں۔ ہمارے لیے اچھا دہشتگرد وہ ہے جو جہنم واصل ہو چکا ہو۔ ہم حق پر قائم ہیں اور حق ہمیشہ غالب آتا ہے۔”




