امریکی کانگریس نے بھارت کے خلاف مئی میں ہونے والی 4 روزہ پاک–بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔
کانگریس کی یوایس چائنا اکنامک اینڈ سیکیورٹی کمیشن کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ مئی میں ہونے والی پاک–بھارت جنگ میں بھارت کو بدترین شکست ہوئی، اور پاکستان کی کامیابی میں چینی ہتھیاروں نے بنیادی کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے چینی ہتھیاروں کی مدد سے فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے مار گرائے۔ پاکستان کی اس کامیابی کے بعد انڈونیشیا نے رافیل طیاروں کی خریداری کا منصوبہ ختم کر دیا، جبکہ رافیل طیاروں کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔ واضح رہے کہ اس جنگ کی ابتدا مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد ہوئی۔ چار روز تک جاری رہنے والے اس تصادم میں دونوں ممالک نے لڑاکا طیارے، میزائل، توپ خانے اور ڈرون استعمال کیے، اور پاکستان نے اس دوران بھارت کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کا مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیزی پر واضح مؤقف
اسی دوران امریکی کانگریس کے خصوصی کمیشن نے مئی میں ہونے والی پاک–بھارت عسکری جھڑپ پر اپنی جامع رپورٹ جاری کی، جس میں پہلی بار بھارت کے دعووں اور بیانیے کو مسترد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس جھڑپ میں پاکستان کو واضح برتری حاصل رہی، اور اس کی دفاعی حکمت عملی، بروقت ردعمل اور انٹیلی جنس صلاحیت کو سراہا گیا۔
کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی کمزور منصوبہ بندی اور اسلحے میں تکنیکی خرابی بھارتی دفاعی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ عسکری سطح پر ایسی خامیوں نے بھارت کی مجموعی ساکھ اور دفاعی حکمت عملی کی کمزوری کو نمایاں کیا۔
کمیشن کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جھڑپ کے بعد جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے، چین—پاکستان دفاعی تعاون مزید مضبوط حقیقت بن گیا ہے، جبکہ بھارت کی عسکری ساکھ عالمی دباؤ میں آ گئی ہے۔ یہ صورتحال خطے میں اسٹرٹیجک تعلقات اور مستقبل کی پالیسیوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
امریکہ نے پہلی بار بھارت کے دفاعی بیانیے پر سوال اٹھایا اور پاکستان کی ذمہ دارانہ حکمت عملی کو تسلیم کیا، جو سفارتی سطح پر پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی اس پوزیشن سے خطے کی سفارتی صورتحال پر بھی اہم اثر پڑے گا۔ رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس کے بعد کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گی، اور عالمی فورمز پر پاکستان کی دلیل اور بیانیہ کو مزید وزن حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ 350 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے روکی: ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی خصوصی کمیشن کی اس رپورٹ نے پاک–بھارت عسکری جھڑپ سے متعلق بیانیے میں پہلی بار وہ تبدیلی متعارف کروائی ہے جسے پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی اور عسکری پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بھارت کے عسکری دعووں اور اس کی دفاعی تیاری پر سنگین سوالات سامنے آئے ہیں۔




