امریکا اور چین کے مابین تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، پاکستانی سفیر

(کشمیر ڈیجیٹل) امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان ماضی کی طرح ایک بار پھر امریکا اور چین کے درمیان تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہمیشہ سے مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔

فیوچر سکیورٹی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے بعد اب ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں بھی صفِ اول میں کھڑا ملک ہے، کیونکہ موسمیاتی اثرات نے ملک کے وجود کے لیے سنگین خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ پائیدار حل تلاش کیے جا سکیں۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرنا غیر منصفانہ ہے، کیونکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی دنیا کے لیے کسی بھی صورت قابلِ برداشت نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان-امریکا تعلقات اس وقت تاریخی طور پر مضبوط دور میں داخل ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک مختلف عالمی اور علاقائی امور پر قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا اور چین کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی اس نے باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد دی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے دوحہ مذاکرات کے بعد افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بحال کر دی

افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ تاہم پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی عوام کی سلامتی کو کسی صورت دہشت گردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو بین الاقوامی بارڈر کے طور پر تسلیم کیا جانا ایک تاریخی حقیقت ہے، جسے تسلیم کرنا خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

Scroll to Top