(کشمیر ڈیجیٹل)وادی نیلم میں کُنڈل شاہی آبشار پر قائم پُل ایک بار پھر سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا۔ حکام کے مطابق جاگراں نالے میں شدید طغیانی کے باعث پُل ٹوٹ کر بہہ گیا۔
یاد رہے کہ 2018 میں سیاحوں کی بڑی تعداد کے پُل پر چڑھنے سے بھی یہ پُل ٹوٹ گیا تھا، جس کے نتیجے میں 25 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ مختلف حادثات میں اب تک 200 سے زائد افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر میں غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی مہلت ختم، واپسی کی آخری تاریخ 30 اگست مقرر
آزاد کشمیر کے ضلع نیلم میں سیلابی ریلوں نے دریا پر بنے چھ رابطہ پُل بہا دیے جبکہ مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے۔ مظفرآباد میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث ایک ہی خاندان کے چھ افراد سمیت آٹھ افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔




