افتخار گیلانی

افتخار گیلانی نے وزیراعظم انوار الحق کو عوامی مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیدیا

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل نیوز) مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر افتخار گیلانی نے وزیراعظم انوار الحق کے حالیہ بیانات کو بے بنیاد، خلافِ حقائق اور گمراہ کن قرار د یدیا ہے ۔

بیرسٹر افتخار گیلانی کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے کل 9 ارکان اسمبلی ہیں جن میں 4 آزاد کشمیر، 4 مہاجرین مقیم پاکستان اور ایک خاتون مخصوص نشست پر منتخب ہیں ۔

ان کے مطابق موجودہ حکومت میں  ن لیگ سے تعلق رکھنے والے 5 وزراء اور ایک مشیر شامل ہیں، جن میں 3 مہاجر نشستوں سے اور 2 آزاد کشمیر سے ہیں جبکہ خاتون رکن بطور مشیر ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت میں شمولیت کا فیصلہ پارٹی کی بڑی غلطی تھی، بیرسٹر افتخار گیلانی کا اعتراف

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے 4 ارکان اسمبلی جو حکومتی صفوں میں شامل ہیں، اپنے حلقوں (اپر نیلم، چکار، ہجیرہ اور برنالہ) میں قانون کے تحت دیگر منتخب نمائندوں کی طرح ترقیاتی فنڈز اور مراعات حاصل کر رہے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ باقی 29 حلقے اپوزیشن میں ہیں اور وہاں حکومتی انتقامی اقدامات جاری ہیں، جن میں فنڈز کی بندش، میرٹ سے ہٹ کر تقرریاں، سیاسی دباؤ اور انتقامی تبادلوں کی مداخلت شامل ہے ۔

بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پر یہ الزام لگانا کہ وہ حکومت میں شامل ہو کر اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے، محض 4 حلقوں کی بنیاد پر بدنیتی پر مبنی پراپیگنڈہ ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے سیاسی مخالفین کو ’’مسترد شدہ‘‘ قرار دینے کو غیر شائستہ اور بے بنیاد قرار دیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم انوار الحق کی اپنی انتخابی کامیابی اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت، سرمایہ دار سردار تنویر الیاس کی مبینہ مالی مدد اور سابق صدر راجہ ذوالقرنین کے بیٹے راجہ علی ذوالقرنین کی کوششوں کے باعث ممکن ہوئی تھی جو آج بھی سیاسی و صحافتی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:نوازشریف نے انوار حکومت سے علیحدگی کی ہدایت نہیں کی، بیرسٹر افتخار گیلانی

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس وزیراعظم پر سنگین الزامات لگا چکے ہیں جن کا آج تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ بیرسٹر افتخار گیلانی نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ سیاسی مخالفین پر طعن و تشنیع کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنائیں ، کابینہ کی سمت درست کریں اور عوامی مسائل پر توجہ دیں تاکہ تاریخ میں مثبت انداز سے یاد رکھے جائیں ۔

Scroll to Top