چین خلا، چاند اور مریخ میں اجارہ داری قائم کرنے کی جانب گامزن!

چین خلا میں اپنی اجارہ داری یا کم از کم واضح برتری قائم کرنے کی سمت مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔

اس کا اندازہ چاند، مریخ اور خلائی اسٹیشنز سے متعلق اُس کے بڑے اور منظم منصوبوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

1. چاند پر بیس کیمپ کا منصوبہ

چین چاند کے حوالے سے “چانگے” مشن سیریز کے تحت تحقیق اور ممکنہ بیس کیمپ کے قیام پر کام کر رہا ہے۔ 2020 میں چانگے 5 مشن کے ذریعے چین چاند سے مٹی کے نمونے زمین پر لانے والا تیسرا ملک بن چکا ہے۔ اب چین روس کے ساتھ مل کر “انٹرنیشنل لونر ریسرچ اسٹیشن” کے قیام کا منصوبہ رکھتا ہے، جو ناسا کے آرٹیمس پروگرام سے مماثل ہے۔

2. مریخ پر کامیاب روور مشن

چین نے 2021 میں Tianwen-1 مشن کے ذریعے مریخ کے گرد مدار میں خلائی جہاز بھیجا اور “Zhurong” نامی روور کو کامیابی سے مریخ کی سطح پر اتارا۔ یہ کامیابی اسے مریخ پر مشن اتارنے والا تیسرا ملک بنا دیتی ہے۔

3. چینی خلائی اسٹیشن “تیانگانگ”

عالمی خلائی اسٹیشن میں رسائی نہ ملنے کے بعد چین نے اپنا ذاتی خلائی اسٹیشن “Tiangong” تیار کیا ہے جو مکمل طور پر فعال ہے اور چینی خلا باز اس میں مستقل موجود رہتے ہیں۔

4. چاند کی معدنیات پر ممکنہ دعویٰ

چین چاند پر ہیلیم-3 جیسے قیمتی عناصر کے حصول کی تحقیق بھی کر رہا ہے، جو مستقبل کی توانائی کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کو اندیشہ ہے کہ چین ان وسائل پر پہلا دعویٰ کرکے عالمی خلائی توازن میں تبدیلی لا سکتا ہے۔

حکمت عملی اور بین الاقوامی ردعمل:

چین کے خلائی مشنز صرف سائنسی مقاصد تک محدود نہیں بلکہ اسٹریٹیجک، عسکری اور معاشی مفادات بھی ان سے جُڑے ہیں۔ رازداری، مستقل سرمایہ کاری اور طویل المدتی وژن اس کے پروگرام کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: یومِ شہداء کشمیر: آزاد کشمیر بھر میں تقریبات، مظفرآباد میں مرکزی تقریب کا انعقاد

چین کی اس تیز رفتار پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے امریکا، یورپی یونین، جاپان اور بھارت نے اپنے خلائی منصوبوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ خلا میں چین کو واحد غالب طاقت بننے سے روکا جا سکے۔

Scroll to Top