مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) چیف جسٹس ہائیکورٹ آزاد کشمیر جسٹس سردار لیاقت شاہین نے پولیس کی ناقص تفتیش ، محکمہ مال میں حقائق کے برعکس ریکارڈ سازی اور ماتحت عدلیہ میں سائلین کے ساتھ نامناسب سلوک پر سخت نوٹس لیتے ہوئے انضباطی و تادیبی کارروائیوں کا حکم جاری کر دیا ہے ۔
چیف جسٹس ہائی کورٹ کی ہدایات پر انسپکٹر جنرل پولیس نے سنگین جرائم اور قتل کے مقدمات کی تفتیش سینئر افسران کی نگرانی میں مکمل کروانے کا عمل فوری طور پر شروع کر دیا ہے۔ سی پی او نے تمام اضلاع کے پولیس سربراہان کو ہدایت دی ہے کہ زیرِ تفتیش مقدمات کی چھان بین کو شفاف بنایا جائے اور چالان بروقت مکمل کیے جائیں ۔
یہ بھی پڑھیں:عدالتی فیصلے میرٹ پر ہوں گے، کلرکس کی بدعنوانی برداشت نہیں:جسٹس سردار لیاقت شاہین
ان احکامات کے نتیجے میں متعدد اضلاع میں تفتیشی نظام میں بہتری کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ ادھر تارکین وطن کی جانب سے ملنے والی شکایات کے بعد سردار لیاقت شاہین نے محکمہ مال، پولیس اور ماتحت عدلیہ میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف بھی فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔
میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع میں ان شکایات کی روشنی میں بدعنوان ملازمین کے خلاف گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے عدالتی تعطیلات کے دوران بھی بطور ووکیشنل جج مظفرآباد سمیت تمام سرکٹ بنچز میں مقدمات کی سماعت کا سلسلہ جاری رکھا اور نئی درخواستوں پر ابتدائی سماعت کے بعد فوری احکامات جاری کرنے کی روایت قائم کی ۔
یہ بھی پڑھیں:قبر یاد رکھ کر فیصلے کرتا ہوں، کسی کے آگے جھکتا ہوں نہ کبھی جھکا ہوں، چیف جسٹس سردار لیاقت شاہین
سائلین کو درپیش مسائل خصوصاً عدالتی ریکارڈ کی نقول کے حصول میں تاخیر یا غیرقانونی فیس کی شکایات کو فوری قابلِ مواخذہ قرار دے دیا گیا ہے ۔ انہوں نے محکمہ مال اور پولیس کے سربراہان کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ اپنے محکموں میں موجود ’’کالی بھیڑوں ‘‘کی فہرستیں تیار کریں اور ان کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر فوری اور مؤثر کارروائی کا ٹائم فریم مقرر کیا جائے ۔




