مناسکِ حج کے مقدس سفر کا آغاز، عازمین حج ظہر سے قبل منیٰ پہنچیں گے

مکہ مکرمہ:آج سے مناسکِ حج کا آغاز ہو رہا ہے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج ظہر سے قبل منیٰ پہنچیں گے جہاں وہ جمعرات کی صبح تک قیام کرتے ہوئے عبادات میں مشغول رہیں گے۔

عازمینِ حج آج اپنے اپنے رہائشی مقامات سے احرام باندھ کر دو رکعت نفل ادا کریں گے اور پھر منیٰ کی جانب روانہ ہوں گے۔ آج کے روز وہ منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کریں گے۔

9 ذوالحجہ کو حجاج میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوں گے جہاں وہ حج کا رکنِ اعظم “وقوف عرفہ” ادا کریں گے۔ اس روز خطبہ حج سننے کے بعد وہ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ پڑھیں گے اور سورج غروب ہونے تک عرفات میں قیام کریں گے۔ غروبِ آفتاب کے بعد حجاج، مغرب کی نماز پڑھے بغیر میدانِ عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کہ اکٹھے ادا کریں گے۔

مزدلفہ میں قیام کے دوران حجاج رمی کے لیے کنکریاں جمع کریں گے اور کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے۔ 10 ذوالحجہ کو وقوفِ مزدلفہ کے بعد رمی کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس روز بڑے شیطان کو سات کنکریاں مار کر قربانی کی جائے گی، پھر حلق کرانے کے بعد احرام کھول دیا جائے گا۔

11 ذوالحجہ کو تینوں جمرات یعنی چھوٹے، درمیانے اور بڑے شیطان کو سات سات کنکریاں ماری جائیں گی، جس کے بعد حجاج طوافِ زیارت کے لیے خانہ کعبہ جائیں گے اور صفا و مروہ کی سعی کریں گے۔

12 ذوالحجہ کو زوال آفتاب کے بعد تینوں شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی، اور 13 ذوالحجہ کو رمی کے بعد حجاج منیٰ سے واپس اپنی رہائش گاہوں کو روانہ ہو جائیں گے۔

ترجمان وزارتِ مذہبی امور کے مطابق پاکستانی عازمین کو سعودی سرکاری کمپنی سے 442 بسیں فراہم کی گئی ہیں جبکہ حج مشن نے نجی کمپنی سے 510 مزید بسیں حاصل کی ہیں۔ مشاعر مقدسہ کے دوران 25 ہزار 861 پاکستانی عازمین بسوں کے ذریعے سفر کریں گے، جبکہ 62 ہزار پاکستانی ٹرین کے ذریعے مشاعر کا سفر طے کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: رعشے کی بروقت شناخت کیلئے سائنس دانوں کی انقلابی ایجاد: اے آئی پین

وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان نے مزید بتایا کہ جمعرات سے پاکستانی حجاج 4 کلومیٹر طویل راستہ سرنگوں کے ذریعے پیدل طے کریں گے، جبکہ وہ سعودی شٹل سروس سے بھی استفادہ  حاصل کر سکیں گے۔