دمام، جدہ(کشمیر ڈیجیٹل)بانی و چیف آرگنائزر جے کے سی او اور سینئر نائب صدر مسلم کانفرنس سعودی عرب سردار عبداللطیف عباسی اچانک انتقال کر گئے۔
مرحوم عبدالطیف عباسی فجر کی نمازادا کرنے کے بعد کچھ دیر کیلئے آرام کی خاطر سو گئے تاہم دوبارہ واپس آنکھ نہ کھل سکی ، سردار عبدالطیف عباسی کے انتقال کی خبر ملتے ہی سعودی عرب میں کہرام مچ گیا ، ہرا ٓنکھ اشکبار
مرحوم متحرک اور باوقار سیاسی و سماجی شخصیت تھے جنہوں نے تارکین وطن بالخصوص کشمیری کمیونٹی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ ن مفاداتی گروہ ،سیاسی نہیں فرنچائزجماعتیں،اظہر گیلانی
سردار عتیق احمد خان سمیت سیاسی شخصیات کا سردار عبدالطیف عباسی کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لطیف عباسی کے انتقال سےپارٹی سمیت اوورسیز کشمیریوں کیلئے بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ان کی تمام لغزشوں کو معاف کرے ان کی آنے والی منزلیں آسان فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
دوسری جانب دمام میں اورسیز کشمیری کمیونٹی سعودی عربیہ کیلئے پیر کا دن بہت تکلیف دہ رہا۔اوورسیز کمیونٹی نے لطیف عباسی کے انتقال پر اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سردار لطیف عباسی کے انتقال سےنہ صرف کشمیر کمیونٹی بلکہ پوری پاکستانی و کشمیری برادری ایک عظیم سرپرست، مخلص رہنما اور بے مثال مہمان نواز انسان سے محروم ہو گئی ہے۔

صدر مسلم کانفرنس دمام سردار محمد علی جنڈالوی اور دمام یونٹ کہ تمام عہدیداران سردار مقصود چغتای راجہ عبد الوحید کامران کمال بشارت عباسی سردار اشتیاق اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات سردار شعیب حیدری سردار شمشاد ایوب راجہ کبیر خان راجزادہ ظہیر صاب سردار کلیم دانش اور دیگر نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی زندگی خدمتِ خلق، اخلاص، بردباری اور اجتماعی شعور کی روشن مثال تھی۔
سردار عبدالطیف عباسی کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ طویل عرصے تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔ آج ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل غمزدہ ہے۔
سردار عبداللطیف عباسی مرحوم نہ صرف کشمیر کمیونٹی سعودی عرب کے بانی تھے بلکہ مملکتِ عربیہ میں ایک باوقار، بااثر اور ہمہ جہت شخصیت کی حیثیت رکھتے تھے۔
ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک عہد کے خاتمے کا احساس دلاتا ہے، ایسا خلا جو مدتوں پر نہیں ہو سکے گا۔
وہ بے مثال مہمان نوازی، فراخ دلی، تدبر اور اخلاص کی روشن علامت تھے۔ آج پاکستان اور بالخصوص کشمیری کمیونٹی ایک ایسی عظیم ہستی سے محروم ہو گئی ہے جس کا نعم البدل مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
ہر آنکھ اشکبار ہے اور ہر دل سوگوار۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی تمام حسنات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرمائے،
ان کے حق میں تمام متعلقین اور چاہنے والوں کی گواہی قبول فرمائے، درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین




